Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
260 - 649
کیونکہ ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
(9) فَکَانَ قَابَ قَوْسَیۡنِ اَوْ اَدْنٰی ۚ﴿9﴾
ترجمۂ  کنزالایمان:تواس جلوے اوراس محبوب میں دو ہاتھ کافاصلہ رہابلکہ اس سے بھی کم۔ (پ27،النجم:9)

    وہاں زمان و مکان ختم ہو گئے، بلکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ایسی جگہ تھے ،نہ اس کی جہت تھی، نہ مکان ،نہ وقت، نہ زمان،

نہ سامانِ حیات ،نہ ہی افلاک و کائنات۔ بلکہ جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سفرِمعراج سے واپس تشریف لائے ،تو بہت زیادہ خوش وخرم اور مسرور تھے،اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہر طرح کی سعادت سے بہرہ مند ہوگئے۔

    واپسی پر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ملاقا ت حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام سے ہوئی توانہوں نے عرض کی : ''اے کریم نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ! اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)کی امت پر کتنی نمازیں فرض فرمائیں؟'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے جواب دیا:''دن رات میں پچاس نمازیں ۔'' انہوں نے پھر عرض کی:''اے ساری مخلوق کے سردار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس دوبارہ جائیے اور اپنی امت کے لئے تخفیف کا سوال کیجئے،یقینا ان میں کچھ عاجز و کمزور بندے بھی ہوں گے۔''حضرت سیِّدُنا موسیٰ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو اسی طرح اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں واپس بھیجتے رہے ،یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہمیشہ کے لئے صرف پانچ نمازیں فرض فرما دیں۔ حضرت سیِّدُنا موسیٰ علیہ السلام کے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں بار بارجانے کے لئے عرض کرنے میں ایک راز یہ بھی تھا کہ جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس ازلی ولازوال حسنِ خداوندی کا مشاہدہ کر کے آئیں اوراس کی چمک آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے چہرۂ اقدس میں ظاہر ہوتَووہ بھی اس حسن کا جلوہ دیکھ لیں۔

    جب اللہ کے پیارے حبیب ،حبیبِ لبیب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنی مراد پالی او ر خَلْوَت میں اپنے رب تعالیٰ کے حسن کامشاہدہ کرلیا تَو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے ارشاد فرمایا گیا:''خواہش کااظہار کیجئے اور جو چاہتے ہیں ہم سے طلب کیجئے، ہم نے آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)کو ہر شئے طلب کرنے اور ہر مقصد تک پہنچنے کی اجازت دے دی ہے۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے عر ض کی:''میں چاہتا ہوں کہ میری اُمَّت کو بھی ویسا ہی شرف عطا کیا جائے جس کی پوشاک مجھے پہنائی گئی ہے تاکہ وہ بھی میری رحمت سے اپنا انعام پا لیں۔'' تَوآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ارشاد فرمایا گیا : ''اے کائنات کے سردار (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)! اے وہ ذات جس کے قدمو ں کی برکت سے زمین وآسماں نے شرف پایا ہے! ہم نے آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)کی اُمَّت کو پانچ خلعتیں عطا کر دی ہیں لہٰذا ان کی سعادتوں کے ستارے بزرگی کے اُفق پر جگمگائیں گے،اور وہ پانچ خلعتیں، پانچ نمازیں ہیں۔ جن سے آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)کی اُمَّت، خَلْوَت میں راحت پائے گی۔''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ
Flag Counter