| حکایتیں اور نصیحتیں |
پھر کہا گیا :''اے محمد(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)! کیا تم جانتے ہوکہ اس وقت کہاں ہو؟اور کس مقامِ رفیع پر فائز ہو؟'' عرض کی: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ !تُوہی بہتر جانتا ہے اور تُوہی سب سے زیادہ جاننے والا ہے۔''تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:''(اے محبوب!) تمہارا یہ مقام ومرتبہ مخلوق میں سے کسی نے نہیں دیکھا، میں نے تمہیں ایک منزل سے دوسری منزل ،ایک جہاں سے دوسرے جہاں اور ایک معراج سے دوسری معراج تک منتقل فرمایا ، یہاں تک کہ زمین و آسماں کی بادشاہی میں کوئی عجیب وغریب چیزایسی نہیں جس پر میں نے تمہیں آگاہ نہ کر دیا ہواور نہ ہی کوئی ایساکمال و مرتبہ ہے جس تک میں نے تمہیں نہ پہنچایا ہو۔''
جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بارگاہِ لم یزل میں حاضر ہوئے اوراس کی بے نیازی کاجام نوش کیا توساری کائنات آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی چمک سے منور ہوگئی اور آسمانی فرشتوں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کواپنا مقصود پانے پر مبارکباد پیش کی، پھر ایک آواز سنائی دی، لیکن کوئی دکھائی نہ دیا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا مالک ومولیٰ ہے۔ لہٰذا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کریں۔'' سرکارِ عالی وقار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں کہ '' مجھے یہ کلمات الہام کئے گئے:''اَلتَّحِیَّاتُ المُبَارَکُ الصَّلَوَاتُ الطَّیِّبَاتُ لِلّٰہِ۔
''تَومجھے جواب ملا:
''اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَا تُہ، ۔
''تَومیں نے عرض کی:
''اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عَبِادِ اللہِ الصَّالِحِیْن۔
''میں نے تمام انبیاء اور اپنی امت کو بھی اس فضلِ کامل اور اجر ِ اعظم میں شریک کر لیا جس کے ساتھ مجھے خاص کیا گیا تھا۔ توملائکہ نے جواباً کہا:
''اَشْھَدُ اَنْ لَّا ۤاِلٰہَ اِلَّااللہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ۔''
پھر دوبارہ آوازآئی: ''اے محمدصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! قریب ہو،تَومیں قریب ہو گیا ۔ ''
ایک قول یہ ہے کہ''آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت کے ساتھ اس کے قریب ہوئے اوراس کی محبت کا قرب پا لیا۔ چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:(8) ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی ۙ﴿8﴾
ترجمۂ کنزالایمان:پھروہ جلوہ نزدیک ہوا پھرخوب اُترآیا۔ (پ27،النجم:8)
یعنی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم محبت کے ساتھ حق تعالیٰ سے قریب ہوئے اور اللہ ربُّ العزَّت عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے رحمت و لطافت کے قرب کا نزول ہوا۔ اور یہ قرب کسی قسم کی مسافت طے کرنے کا نہ تھا بلکہ وہاں تَوجدائی و فراق کا سوال ہی ختم ہو گیا تھا۔بقیہ ۔۔۔۔۔۔ جانا تو علم مثبت کے پاس ہے۔ علاوہ بریں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ کلام حضور سے نقل نہیں کیا بلکہ آیت سے اپنی استنباط پر اعتماد فرمایا ۔یہ حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی رائے ہے اور آیت میں ادراک یعنی احاطہ کی نفی ہے، نہ رؤیت کی۔ مسئلہ: صحیح یہ ہے کہ حضورصلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم دیدارِ الہٰی سے مشرف فرمائے گئے۔ مسلم شریف کی حدیث ِمرفوع سے بھی یہی ثابت ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما جو بحرُ الاُمَّۃ ہیں، وہ بھی اسی پر ہیں۔ مسلم کی حدیث ہے:
''رَاَیْتُ رَبِّیْ بِعَیْنِیْ وَبِقَلْبِیْ
(یعنی )میں نے اپنے رب کو اپنی آنکھ اوراپنے دِل سے دیکھا ۔''حضرت حسن بصری علیہ الرحمۃ قسم کھاتے تھے کہ'' محمد مصطفی صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم نے شبِ معراج اپنے رب کو دیکھا۔'' حضرت امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ'' میں حدیث ِ حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا قائل ہوں حضو ر نے اپنے رب کو دیکھا اوراُس کو دیکھااوراُس کو دیکھا۔امام صاحب یہ فرماتے ہی رہے یہاں تک کہ سانس ختم ہوگیا۔''