(7) مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی ﴿11﴾
ترجمۂ کنزالایمان:دل نے جھوٹ نہ کہا جودیکھا۔(۳) (پ27، النجم: 11)
1 ۔۔۔۔۔۔مفسِّرِشہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں :'' اس میں سیّد عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کے کمال قوت کا اظہار ہے کہ اس مقام میں جہاں عقلیں حیرت زدہ ہیں آپ ثابت رہے، اور جس نور کا دیدار مقصُود تھا اس سے بہر ہ اندوز ہوئے۔ داہنے بائیں کِسی طرف ملتفت نہ ہوئے، نہ مقصُودکی دید سے آنکھ پھیری، نہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی طرح بے ہوش ہوئے بلکہ اس مقامِ عظیم میں ثابت رہے۔''
2 ۔۔۔۔۔۔مفسِّرِشہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ''یعنی حضور سیّد عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم نے شب ِ معراج عجائب ِ ملک وملکوت کا ملاحظہ فرمایا اور آپ کا علم تمام معلوماتِ غیبیہ ملکوتیہ پر محیط ہوگیا۔ جیسا کہ حدیث اختصامِ ملائکہ (یعنی فرشتوں کا جھگڑنا) میں وارد ہوا ہے اور دُوسری اور احادیث میں آیا ہے ۔''(روح البیان)
3 ۔۔۔۔۔۔مفسِّرِشہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : '' یعنی سیّد عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کے قلب مبارک نے اس کی تصدیق کی جو چشمِ مبارک نے دیکھا۔ معنٰی یہ ہیں کہ آنکھ سے دیکھا، دِل سے پہچانا اور اس رؤیت و معرفت میں شک وتردُّد نے راہ نہ پائی۔ اب یہ بات کہ کیا دیکھا۔ بعض مفسِّرین کا قول یہ ہے کہ حضرت جبریل کو دیکھا ۔لیکن مذہب ِصحیح یہ ہے کہ سیّد عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے ربّ تبارک و تعالیٰ کو دیکھا اور یہ دیکھنا کس طرح تھا، چشمِ سرسے یا چشمِ دِل سے؟اس میں مفسِّرین کے دونوں قول پائے جاتے ہیں۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا قول ہے کہ'' سیّد عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم نے ربُّ العزت کو اپنے قلب ِ مبارک سے دوبار دیکھا۔(رواہ مسلم) ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ آپ نے رب عَزَّوَجَلَّ کو حقیقتہً چشمِ مبارک سے دیکھا ۔یہ قول حضرت انس بن مالک اور حسن و عکرمہ کا ہے۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کو خُلَّت اور حضرت موسٰی علیہ السلام کو کلام اور سیّد عالم محمد مصطفٰی کو اپنے دیدار سے امتیاز بخشا(صلوات اللہ تعالٰی علیہم)۔کعب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے دوبار کلام فرمایا اور حضرت محمد مصطفی صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم نے اللہ تعالیٰ کو دو مرتبہ دیکھا۔ (ترمذی) لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دیدار کا انکار کیا اور آیت کو حضرت جبریل کے دیدار پر محمول کیا اور فرمایا کہ جو کوئی کہے کہ محمد (صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم ) نے اپنے رب کو دیکھا اس نے جھوٹ کہا اور سند میں (یعنی دلیل کے طور پر)'' لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ''تلاوت فرمائی۔یہاں چند باتیں قابلِ لحاظ ہیں: ایک یہ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا قول نفی میں ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماکا اثبات میں اور مُثبِت ہی مُقدَّم ہوتا ہے۔ کیونکہ نافی کِسی چیز کی نفی اس لئے کرتا ہے کہ اُس نے نہیں سُنا اور مثبت اِثبات اس لئے کرتا ہے کہ اس نے سُنااور۔۔۔۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر