| حکایتیں اور نصیحتیں |
وآلہ وسلَّم علم و ادب کی صفات سے مکمل طور پر متَّصف ہوگئے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو مراتب ِ تعظیم کے مزید قریب کیا۔ چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
(4) ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی ۙ﴿8﴾فَکَانَ قَابَ قَوْسَیۡنِ اَوْ اَدْنٰی ۚ﴿9﴾
ترجمۂ کنزالایمان :پھروہ جلوہ نزدیک ہواپھرخوب اتر آیا تواس جلوے اوراس محبوب میں دوہاتھ کافاصلہ رہابلکہ اس سے بھی کم۔(۱)(پ27،النجم:8۔9)
اس کے بعدآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوپکارا گیا:''اے محمد(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم) آج رات آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)ہمارے مہمان ہیں کہ آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)ہماری بارگاہ میں حاضر ہوئے اور ہمارے قرب کی لذَّت حاصل کی۔اب آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)ہی بتائیں کہ آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)کی مہمان نوازی کیسے کی جائے؟اور آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم) کیا چاہتے ہیں ؟''تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے عرض کی :''یاالٰہی عَزَّوَجَلَّ! مجھ سے پہلے انبیاء کو انعام واکرام کی جو پوشاکیں عطا فرمائی گئیں، میں ان میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے پوچھا گیا: ''اے میرے حبیب (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)! پھر کون سی چیز تمہیں راضی کرے گی؟ اورتم کس چیزسے خوش ہوگے؟'' جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو یقینی طور پراپنی تمنائیں بر آتی دکھائی دیں تو زبانِ حال سے عرض کرنے لگے: ''اے جودوکرم والے مالک ِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ!تُوبہتر جانتا ہے کہ میرا مقصود و مطلوب کیا ہے۔''تو ارشاد فرمایا گیا :''اے شفاعت کرنے والے اور وہ جس کی شفاعت مقبول ہے! اگرتم چاہتے ہوکہ تمہیں انوار وتجلیات کا ایسا حُلَّہ عطا کروں جو کسی کو نہ ملا، نہ کسی نے اس کی خواہش کی اور نہ ہی کسی کان نے اس کے متعلق سنا تو ٹھہرجاؤاور ہمارے کرم کے خزانوں میں داخل ہو کر ہمارے دیدار کی پوشاک زیب ِ تن کرلو۔
اوردیدار الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے وقت محبوب ِ خدا صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کی ثابت قدمی کو قرآنِ پاک یوں بیان فرماتاہے:1 ۔۔۔۔۔۔مفسِّرِشہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ''اس(دَنَا) کے معنٰی میں بھی مفسّرین کے کئی قول ہیں: ایک قول یہ ہے کہ حضرت جبریل کا سیّد عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم سے قریب ہونا مراد ہے کہ وہ اپنی صورت اصلی دکھادینے کے بعد حضور سیّد عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کے قرب میں حاضر ہوئے ۔ دُوسرے معنٰی یہ ہیں کہ سیّد عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم حضرت حق کے قرب سے مشرّف ہوئے۔ تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کو اپنے قرب کی نعمت سے نوازا اور یہ ہی صحیح تر ہے۔ (فَتَدَ لّٰی) میں چند قول ہیں ایک تویہ کہ نزدیک ہونے سے حضور کا عروج و وصول مراد ہے اور اُتر آنے سے نزول ورجوع۔ تو حاصل معنٰی یہ ہے کہ حق تعالیٰ کے قرب میں باریاب ہوئے، پھر وصال کی نعمتوں سے فیض یاب ہو کر خلق کی طرف متوجہ ہوئے۔ دُوسرا قول یہ ہے کہ حضرت ربُّ العزَّت اپنے لطف و رحمت کے ساتھ اپنے حبیب سے قریب ہوا اور اس قرب میں زیادتی فرمائی۔ تیسرا قول یہ ہے کہ سیَّد عالَم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم نے مقرَّبِ درگاہِ ربوبیت ہو کر سجدۂ طاعت ادا کیا۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ'' قریب ہوا جبار رب العزت۔۔۔۔۔۔ الخ۔( فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی)یہ اشارہ ہے تاکید ِقرب کی طرف کہ قرب اپنے کمال کو پہنچا اور با ادب احبَّاء میں جو نزدیکی مُتصوَّر ہو سکتی ہے وہ اپنی غایت کو پہنچی۔''