Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
256 - 649
آج رات تُو ان کا ہم رکاب ہو گا۔اور اے میکائیل(علیہ الصلٰوۃ والسلام)! تو بھی عَلمِ قبولیت کو تھام لے اور ستر ہزار فرشتوں کو لے کر حضورصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے درِ دولت پر حاضر ہو جاکہ آج رات تو بھی ان کی خدمت پر مامور ہے۔اے اسرافیل و عزرائیل (علیہماالسلام)! تم دونوں بھی ویسے ہی کروجیسے جبرائیل ومیکائیل کر رہے ہیں۔ آج رات تم سب نے سیِّدُ الاوّلین و الآخرین (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔ اے جبرائیل (علیہ السلام)! سورج کی روشنی کے ذریعے چاند کی روشنی میں کچھ اضافہ کردے اور چاند کے نور کے ذریعے ستاروں کے نور میں زیادتی کر دے۔ پھرشمس وقمرکو شمع بنا کر بارگاہِ نبوی میں پیش کر دے۔''

    جبرائیل امین علیہ الصلٰوۃ والسلام نے عرض کی: ''یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ! کیاقیامت قریب آ گئی ہے ؟'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ''میں چاہتا ہوں کہ اپنے حبیب(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)کو اپنا قرب عطا کروں اور انہیں اپنے اسرار سے آگاہ فرما کر انہیں انوار و تجلیات کا خلعتِ نور پہناؤں اور وہ محمد مصطفی(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)ہیں،جنہیں صدق و وفا کے ساتھ خاص کیا گیا ہے۔ لہٰذا ان کی بارگاہ میں حاضر ہو جا اور اس رات ان کا خدمت گار اور ہم رِکاب ہونے کا شرف حاصل کر لے۔''

    چنانچہ حضرت سیِّدُناجبرائیل علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمتِ اقدس میں بشارت و مبارکباد کے پیغامات لے کر حاضر ہو گئے۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم حضرت سیِّدَتُنااُمِّ ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے کاشانۂ اَقدس میں محو ِآرام تھے۔ حضرت سیِّدُناجبرائیل امین علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو ندادی: ''اے نبئ مختارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے لئے تیار ہو جائيے کہ فرشتے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے انتظار میں صف بستہ ہیں۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم دیدارِالٰہی عَزَّوَجَلَّ کے شوق میں اُٹھ کھڑے ہوئے۔حضرت سیِّدُنا جبرائیل امین علیہ الصلٰوۃ و السلام نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوبُراق پر سوار کرایااور پھر خود بھی سوار ہو کر مسجد ِحرام سے مسجد ِاقصیٰ جا پہنچے، بے حد و بے حساب سفر طے کیااور ملائکہ بھی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے دُرود و سلام کے نذرانے پیش کر رہے تھے اور یوں عرض کر رہے تھے :
''اَیُّھَا السَّیِّدُ الْکَرِیْمُ وَالرَّسُوْلُ الْعَظِیْمُ اِلْتَفِتْ بِنَظَرِکَ اِلَیْنَا وَتَفَضَّلْ بِحُسْنِ عَطْفِکَ عَلَیْنَا
یعنی اے محترم و مکرَّم اور عظیم ر سول! ہم پر نظرِ کرم کے ساتھ توجہ و التفات فرمائیے اور شفقت ومہربانی فرمائیے۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : ''جان لو! جس نے اپنے محبوب کے غیر کی طرف ایک قدم بڑھایا یقینا اس نے اپنے آپ کو تھکایا اور جو غیرِ مطلوب کے لئے ایک قدم چلا اس نے محض مشقت اُٹھائی اور جو محبوب و مطلوب کو پانے میں کامیاب ہو گیاوہ کیسے غیر اللہ کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے؟ اور جب اس کے ارادے کی پختگی صحیح ہوگئی اور وہ تمام مخلوق سے غافل ہوکر صرف خالق عَزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ ہو گیا تو اس نے شکر کی زبان حاصل کر لی اور اب وہ کسی قسم کی سستی نہ کریگا۔''

     نیز ارشاد فرمایا: '' اگرمیں بھی اس کی عبادت میں کوتاہی کروں تو میری بھی کوئی حیثیت نہیں۔'' اورجب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ
Flag Counter