Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
255 - 649
(3) وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ؕ﴿5﴾
ترجمۂ  کنزالایمان:اوربیشک قریب ہے کہ تمہارارب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤگے۔(۱)(پ30،الضحی:5)

    حضرت سیِّدُناشیخ امام ابو الفَرَج بن جوزی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ اپنی ایک کتاب میں ذکر فرماتے ہیں کہ ''اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا جبرائیل امین علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ اپنی عبودیت کے قدموں پر رُک جا اور میری ربوبیت کے مرتبہ کا اعتراف کر اور میرے شکر کے میدان میں خوشی سے جھوم جااور میری قدرت وشان کی عظمت جان۔ اب میں تجھ پرایک احسان کرنے والا ہوں لہٰذا جو کچھ میں وحی کروں اسے تو جہ سے سن۔توحضرت سیِّدُناجبرائیل امین علیہ السلام نے عرض کی:'' اے میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ! تُومہربان ہے اور میں کمزور و بے بس ہوں،تُوطاقت وقدرت والاہے اور میں محتاج و مغلوب ہوں۔'' 

    اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: ''اے جبریل(علیہ الصلٰوۃ والسلام)! ہدایت کا جھنڈا، عنایت کا بُراق،قبولیت و ولایت کی پوشاک، رسالت کا لباس اور عظمت وجلالت کی زبان لے کر ستر ہزار ملائکہ کے ساتھ رسولوں کے سالار، شفیع روز شمار،دو عالم کے مالک ومختار (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم) کے دربار میں حاضر ہو جا اوراُن کے دروازے پر کھڑا رہ اور اُن کی بارگاہ سے فیض حاصل کر کہ
1 ۔۔۔۔۔۔مفسِّرِشہیر، خلیفۂ  اعلیٰ حضرت، صدرالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ''اللہ تعالیٰ کا اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم سے یہ وعدۂ کریمہ ان نعمتوں کو بھی شامل ہے جو آپ کو دُنیا میں عطا فرمائیں۔ کمالِ نفس اور علومِ اوّلین و آخرین اور ظہورِ امر اور اعلائے دین اور وہ فتوحات جو عہد ِمبارک میں ہوئیں اور عہد ِ صحابہ میں ہوئیں اور تاقیامت مسلمانوں کو ہوتی رہیں گی اور دعوت کا عام ہونا اور اسلام کا مشارق و مغارب میں پھیل جانا اور آپ کی اُمت کا بہترین امم ہونا اور آپ کے وہ کرامات و کمالات جن کااللہ ہی عالم ہے اور آخرت کی عزّت و تکریم کو بھی شامل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفاعتِ عامہ و خاصہ اور مقامِ محمود و غیرہ جلیل نعمتیں عطا فرمائیں۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم نے دونوں دستِ مبارک اُٹھا کر اُمت کے حق میں رو کر دُعا فرمائی اور عرض کیا:
اَللّٰھُمَّ اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ۔
اللہ تعالیٰ نے جبریل کو حکم دیا کہ محمد(مصطفی صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم ) کی خدمت میں جا کر دریافت کرو، رونے کا کیا سبب ہے باوجود یہ کہ اللہ تعالیٰ دانا ہے۔ جبریل نے حسب ِ حکم حاضر ہو کر دریافت کیا۔ سیّدِ عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم نے انہیں تمام حال بتایا اور غمِ اُمت کا اظہار فرمایا، جبریلِ امین نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا کہ ''تیرے حبیب یہ فرماتے ہیں باوجود یہ کہ وہ خوب جاننے والا ہے۔اللہ تعالیٰ نے جبریل کو حکم دیا، جاؤ اور میرے حبیب ( صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم ) سے کہو کہ ہم آپ کو آپ کی اُمت کے بارے میں عنقریب راضی کریں گے اور آپ کو گراں خاطر نہ ہونے دیں گے ۔حدیث شریف میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی سیّدِ عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا کہ'' جب تک میرا ایک اُمتی بھی دوزخ میں رہے میں راضی نہ ہوں گا۔ آیت کریمہ صاف دلالت کرتی ہے کہ'' اللہ تعالیٰ وہی کریگا جس میں رسول راضی ہوں اور احادیث ِ شفاعت سے ثابت ہے کہ'' رسول صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کی رضا اسی میں ہے کہ سب گنہگارانِ اُمت بخش دیئے جائیں ۔ تو آیت و احادیث سے قطعی طور پر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کی شفاعت مقبول اور حسب ِمرضئ مبارک گنہگار انِ اُمت بخشے جائیں گے ۔سبحانَ اللہ! کیا رُتبہ عُلیا ہے کہ جس پروردگار کو راضی کرنے کے لئے تمام مقرَّبین تکلیفیں برداشت کرتے اور محنتیں اُٹھاتے ہیں وہ اس حبیب ِ اکرم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کو راضی کرنے کے لئے عطا عام کرتا ہے۔''
Flag Counter