ایک قول یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے تمام حجابات اُٹھا دئيے، زمین کو لپیٹ دیا، اور مسجداقصیٰ کو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے قریب کر دیا۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو اپنی بارگاہِ مقدَّسہ میں حاضری کا شرف بخشا۔پھر ارشاد فرمایا: ''اے محمد(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)!میرا دیدار کرو اور لوگوں کو میرے متعلق خبر دو۔''اس کے بعد جب بھی لوگ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے جو بھی بات پوچھتے تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ ہوجاتے اور آنکھوں سے دیکھ کر اور مشاہدۂ حق کرکے جواب دیتے،یقینااللہ عَزَّوَجَلَّ ہر چاہے پر قادر ہے۔ لوگوں کی زبانیں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بات سن کر گُنْگ ہو گئیں۔
پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے انہیں بیت المقدس سے آسمانوں تک بلند ہونے کا واقعہ سنایا۔ پس جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا رات کی آنِ واحد میں مکۂ مکرمہ سے بیت المقدس تک سفر کرنا ثابت ہوگیاحالانکہ دونوں مقامات کے درمیان تیز رفتار مسافرکی ایک ماہ کی مسافت ہے تووہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے آسمانی سفر کو ماننے پربھی مجبور ہو گئے۔ کیونکہ وہ ذات جو سخت زمین کو سمیٹنے پر قادر ہے ، وہ ہلکی فضاکو لپیٹنے پر کیونکرقادر نہ ہو گی؟
سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب سینہ ،با عث ِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کی گئی:'' یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!ہم نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے سنا ہے کہ حضرت سیِّدُنا عیسیٰ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام پانی پر چلاکر تے تھے۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:'' ہاں، واقعی،ایسا ہی ہے، اور اگر وہ ہوا پر چلنا چاہتے تو ایسا بھی کرسکتے تھے لیکن صَاحِبُ الْاَسْرَاء (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)کا ادب لازم تھا۔''کیونکہ آسمانی سفرمصطفی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ خاص تھا، جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم آسمانوں کی طرف بلند ہوئے اور جنگلوں، بیابانوں کو طے کر گئے اور آپ کی خاطر اندھیرے کے ایک ہزار حجابات اورروشنی کے ایک ہزار حجابات اٹھادیئے گئے۔ اور ہوا پر چلناپانی پرچلنے سے زیادہ تعجب انگیز ہے کیونکہ ہوا پانی سے زیادہ ہلکی ہے، نیز پانی پر تونیک وبداور مؤمن و کافر سبھی کسی لکڑی،تختے یاکشتی کے ذریعے چل سکتے ہیں،لیکن ہوا پران چیزوں کے ذریعے وہی چل سکتا ہے جس پر رب کی خاص عنایت ہو۔
بعض علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نبئ کریم، ر ء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے رفیق حضرت سیِّدُناجبرائیل علیہ الصلٰوۃ والسلام تھے، اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے بُراق کی رکاب حضرت سیِّدُنامیکائیل علیہ الصلٰوۃ والسلام نے پکڑ رکھی تھی جبکہ دامنِ رحمت حضرت سیِّدُنا اسرافیل علیہ الصلٰوۃوالسلام کے دستِ اقدس میں تھا اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو آسمانوں پر بلا نے والا خود ربِّ جلیل عَزَّوَجَلَّ تھااور جن کو بلایا گیاتھا وہ حضرت سیِّدُنامحمدمصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تھے، دعوت کا مقام قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنٰی تھا،اورخلعت(خِل ْ۔ عَت) گنہگارانِ اُمَّت کی شفاعت تھی، اسی لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: