Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
253 - 649
آپ (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)کو آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)کے اشتیاق کی وجہ سے جمال کا مشاہدہ کروایا اور آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)کو اپنے خطاب کی لذت سے بہرہ مند کیا۔اب یہ خطاب آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)کی قوتِ سماعت کو دوسرے تمام خطابات سے محفو ظ کر دے گا۔میں نے آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)کو اپنے قرب کی شرابِ طہور کا جام پلا دیا ہے۔لہٰذا اب آپ (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم) واپس جا کر ان لوگوں کو بتا دیں جو مجھ سے غافل اور میرے وصال سے دور ہیں۔

    امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری علیہ رحمۃاللہ القوی تفسیرطبری میں ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ'' جب حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی عمر مبارک اکیاون (51) برس نو ماہ ہوئی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو چاہِ زمزم اور مقامِ ابراہیم کے مابین مقام سے لے کربیت المقدس تک رات کے وقت سیر کرائی گئی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا سینۂ مبارکہ چاک کیا گیا اور قلب ِ اطہر نکال کر بیماریوں سے شفا دینے والے آب ِزمزم سے دھویا گیا، اور ایمان و حکمت سے بھر نے کے بعد واپس اپنی جگہ رکھ دیا گیا،اس کے بعد آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو سب سے زیادہ عزت والے مقام کی سیر کرائی گئی۔

     رات کے وقت سیر کرانے میں جوراز ہے وہ عقلوں سے مخفی اور مخلوقِ خدا کی سمجھ سے بالاتر ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ مبارک فرمان نازل ہوا:
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ﴿45﴾
ترجمۂ  کنزالایمان:اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بےشک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر ناظر اور خوش خبری دیتااورڈر سنا تا۔(پ22،الاحزاب:45)

    توشہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحب ِ معطر پسینہ، باعث ِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے عرض کی: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ!تونے میرے لئے تو یہ قانون بنایا ہے کہ گواہ بغیر دیکھے گواہی نہیں دے سکتا۔''تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی جانب وحی فرمائی کہ ہم آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو رات کے وقت اپنی بارگاہ کی سیر کرائیں گے، تاکہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ملکوتِ اعلیٰ کا مشاہدہ کر لیں اور لوگوں کومشاہدہ کی ہوئی چیزوں کی خبر دیں جنہیں آنکھیں جنت یا دوزخ میں دیکھیں گی۔''

    منقول ہے کہ جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم آسمان کی جانب بلند ہوئے تواللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی ذات کا مشاہدہ کرایا اور ارشاد فرمایا:''اے میرے نبی! تم نے میری ذات کا مشاہدہ کر لیا،لہٰذا اب میری خدائی کے گواہ بن جاؤ ۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے عرض کی: ''اے میرے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں کیسے تیری گواہی دوں ؟'' تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:''تم (میری طرف سے)یوں کہو: '' جومیری بارگاہ میں حاضر ہو اور اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خاص رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہیں تو میں اس کے ظاہری و باطنی تمام گناہ معاف کر دوں گا۔''
Flag Counter