| حکایتیں اور نصیحتیں |
نورکو ملاحظہ فرمایا اور یہ بھی دیکھا کہ ہر روز ستر ہزار فرشتے اس میں داخل ہوتے ہیں (جو ایک بار داخل ہوجائے) دوبارہ اُس دن تک اس کی باری نہیں آئے گی:
''یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ
ترجمۂ کنزالایمان:جس دن ظالم اپناہاتھ چباچبالے گا۔''(پ۱۹، الفرقان:۲۷)
حضرت سیِّدُناجبرائیل امین علیہ السلام آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ''سِدْرَۃُ الْمُنْتَہٰی''پر پہنچے تو پیچھے ہٹ گئے۔ حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''اے جبریل!کیا یہاں پر دوست دوست کو چھوڑ دے گا؟'' جبرائیل امین علیہ السلام نے عرض کی: ''اے تمام رسولوں کے سردار اور ربُّ العالمین کے حبیب (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)! آپ تو پوشیدہ رازوں اور لکھے ہوئے علم کو جانتے ہیں کہ اس مقام پر حدود ختم ہو جاتی اور علوم مٹ جاتے ہیں۔ میرا یہی مقام ہے اور ہم میں سے ہر ایک کا مخصوص مقام ہے۔ لہٰذا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم آگے تشریف لے چلئے اور اپنے عزت و وقار کے انوارمیں مزیداضافہ فرمائیے۔''
چنانچہ نبی مختار، رسولوں کے سالارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم انوار کے حجابات سے تجاوز کرتے گئے حتیٰ کہ وہاں پہنچ گئے جہاں کوئی مقام نہیں، جدائی ختم ہو گئی اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم حسنِ ادب کے راستے پر چلتے ہوئے ،اس ذاتِ حق کے جمال کا مشاہدہ کرنے لگے جس کی پہچان، وحدانیت اور وصف ،یکتائی ہے۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہو کرا نوا ر وتجلِّیات کاحُلَّہ سجالیاپس وصال کی رسی مل گئی اور دُوری ختم ہو گئی۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے گفتگو کی ابتدا ء سلامتی بھیجنے سے کی اور لطف فرماتے ہوئے انعام و اِکرام عطا فرمائے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے محبوب سے ارشاد فرماتا ہے:(2) یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ﴿45﴾ۙوَّ دَاعِیًا اِلَی اللہِ بِاِذْنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا ﴿46﴾وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیۡنَ بِاَنَّ لَہُمۡ مِّنَ اللہِ فَضْلًا کَبِیۡرًا ﴿47﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اے غیب کی خبریں بتانے والے(نبی)بےشک ہم نے تمہیں بھیجاحاضرناظراورخوش خبری دیتا اورڈرسناتا۔اوراللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتااورچمکادینے والاآفتاب اور ایمان والوں کو خوشخبری دوکہ ان کے لئے اللہ کابڑافضل ہے۔(پ22،الاحزاب:45تا47)
یعنی آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)کی نبوت کا چراغ قیامت تک آنے والے لوگوں پراسی طرح روشن رہے گا۔ نہ اُس کی روشنی کم ہو گی اور نہ ہی وہ بجھے گا،اور یہ کہ آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)شاہد یعنی گواہی دینے والے ہیں اور میں وہ ہوں جس کی آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)گواہی دیں گے ۔''کیونکہ آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)سب سے اعلیٰ ذات کا مشاہدہ کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔نیز شاہد کو اپنی شہادت میں کسی قسم کا ترددو تذبذب نہیں ہونا چاہے۔لہٰذا معراج کی رات جو کچھ آپ (صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)نے دیکھا اس کی گواہی دیں تاکہ لوگ میری وحدانیت کا عرفان حاصل کریں اور میری بندگی کا اعتراف کریں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)سے کلام کیا اور آپ(صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)کو فضیلت عطا فرمائی کہ میں نے