ترجمۂ کنزالایمان:پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا مسجد ِحرام سے مسجد ِاقصیٰ تک۔(۱)(پ15،بنی اسرائیل:1)
یہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے لئے عزت و فخر کی بات ہے۔ پھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خاطر آسمان میں زینہ لگایا گیا، جس پر چڑھے تَو بلند ہوتے گئے ،اور آ پ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سب سے معظَّم ،معزَّز، محتَرَم، مکرَّم اورمقدَّم ہو گئے۔ حضرت سیِّدُنا جبریل امین علیہ السلام آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ہم رکاب تھے، انہوں نے لمحہ بھر بھی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا دامن نہ چھوڑا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تعظیم و توقیر کی خاطر آسمان کے دروازے کھول دئيے گئے، پوچھا گیا:'' اے جبریل امین (علیہ السلام)!یہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟'' تو آپ علیہ السلام نے ارشادفرمایا : ''یہ حضرت سیِّدُنامحمدصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہیں۔''پھر عرض کی گئی: ''کیا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو بلایا گیا ہے؟'' ارشاد فرمایا: ''جی ہاں۔'' تَوسارے فرشتے کہنے لگے:''خوش آمدید! آنے والی ہستی کتنی مبارک ہے!'' پھر تمام ملائکہ نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تعظیم کی ۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے تمام انبیاء کرام علٰی نبیناوعلیہم الصلٰوۃوالسلام کو احتراماً سلام پیش کیا، ان سب نے بھی مرحبا کہا اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے سحاب ِ جود وسخا سے برکتیں لوٹنے لگے۔
آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم آگے بڑھتے گئے یہاں تک کہ مقامات کی حدود وقیود سے بھی گزر گئے ، نہ تو کسی جگہ قیام کیا اور نہ ہی پڑاؤحتیٰ کہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے قلموں کے لکھنے کی آوازاور فرشتوں کی تسبیح کی آواز سماعت فرمائی،جنت ودوزخ کو ملاحظہ فرمایا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے نیکوکاروں اوربَدکاروں کے لئے جو جزا وسزا تیار کر رکھی ہے اس کا بھی مشاہدہ کیا۔آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے قدمَینِ شریفَین کی برکت سے جہنم کی آگ ٹھنڈی پڑ گئی، خازنِ جنت رضوان علیہ السلام نے جنت کے محلاَّت اور بالاخانوں کو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی خوشبو سے معطَّرکر لیاپھر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم بیت ُ المعمور کی طرف بلند ہوئے ،ضیاء و