سب خوبیاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے اپنے برگزیدہ بندوں کو اپنی محبت کے لئے اختیار فرمایا اور ان کو اپنا محبوب بنایا جو اس کی بارگاہِ قرب میں حاضر ہونے کی صلاحیت رکھتے تھے،انہیں خالص شراب ِ طہور پلائی،اور پھر اپنی مخلوق میں سے منتخب ہستیوں میں سے بعض کو انبیاء ، بعض کو اصفیاء ، بعض کو اولیاء اور بعض کو خلفاء کا مقام عطا فرمایا۔پھر ان سب میں اپنی بارگاہِ ناز کے لئے جس ہستی کا انتخاب فرمایاوہ ہمارے آقا ومولیٰ، حبیبِ خدا، حضرت سیِّدُنا محمد ِ مصطفٰے عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہیں۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو پاک پشتوں میں رکھنے سے پہلے ہی ساری مخلوق پر ممتاز فرما کر آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم پر اپنے انعامات کی برسات کر دی، اور اپنے کرم سے مقامِ فخر عطا فرمایااوراپنی تائید و نصرت فرمائی۔ حضرت سیِّدُنا آد م صفیُّ اللہ علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ و السلام نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے وسیلہ سے دُعا کی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمالی ۔
حضرت سیِّدُنا نوح نجیُّ اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے وسیلہ سے دعا مانگی تو سمندرکے طوفان سے نجات پائی،جبکہ آپ علیہ السلام کی باقی قوم غرق ہو گئی۔ حضرت سیِّدُنا ابراہیم خلیل اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام کو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہی کی برکت سے نارِنمرود سے عافیت عطا فرما کر نہ صرف قیدو بند کی صعوبتوں سے نجات عطا کی گئی بلکہ آگ کے شُعلوں کو بھی ٹھنڈا کر دیا گیا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہی کے وسیلے سے حضرت سیِّدُنا اسماعیل ذبیح اللہ علیہ الصلٰوۃ و السلام کے فدیے میں جانور کی قربانی دی گئی اور آپ علیہ السلام کو ذبح ہونے سے بچا لیا گیا۔ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللہ علیہ الصلٰوۃ والسلام نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے وسیلے سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا لطف وکرم طلب کیا تو اُن پربھی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مہربانی فرمائی۔ جب حضرت سیِّدُنا عیسیٰ رُوح اللہ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام محبوبِ خدا، احمد ِ مجتبیٰ، محمد ِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بشارت دیتے ہوئے تشریف لائے اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی برکت طلب کی تواللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں اپنے مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا امتی ہونے کا شرف عطا فرما دیا۔
آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تمام کائنات کے سردار اور جن وانس کے امام ہیں،جنہیں (رات کے تھوڑے حصے میں) مسجد ِ حرام سے مسجد ِ اقصیٰ تک ،پھر وہاں سے ''سِدْرَۃُ الْمُنْتَہٰی''تک، اور وہاں سے قَابَ قَوْسَیْن تک سیر کرائی گئی۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی سواری بُراق تھی،حضرت سیِّدُناجبریل امین علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃ والسلام لگام پکڑے ہوئے تھے اور تمام نوری مخلوق آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی راہ دیکھ رہی تھی۔جب آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی سواری مسجد ِ اقصیٰ پہنچی تو انبیاء کرام علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ و