Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
249 - 649
مجھ سے دنیا و آخرت کی جو بھی چیز مانگو گے میں تمہیں عطاکردوں گا۔ میری عز ت و جلال کی قسم ! میں ضرور تمہارے عیوب کی پردہ پوشی کروں گا،میں تمہیں مجرموں کے سامنے ذلیل و رسوانہ کروں گا۔پس اب مغفرت یافتہ لوٹ جاؤ، تم نے مجھے راضی کر دیااور میں تم سے راضی ہو گیا۔'' فرشتے خوش ہوتے ہیں، اور اس انعام کی مبارکباد دیتے ہیں جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس امت کو روزوں سے فارغ ہونے پرعطا فرماتا ہے۔''
 (شعب الایمان للبیھقی،باب فی الصیام ،فصل فی لیلۃ القدر، الحدیث۳۶۹۵، ج۳، ص۳۳۶، بتقَدُّمٍ وتَاَخُّرٍ)
    اے میرے اسلامی بھائیو! کتنا اچھا حال ہے اس شخص کا جسے قبولیت کی پوشاک اوڑھا دی گئی، اور اس نے اپنا مقصد پا لیا۔اور کتنا بدبخت ہے وہ شخص جس کے گذ شتہ روزے قبول نہ کئے گئے اس کی گزری ہوئی تھکاوٹ میں اسے سوائے درد کی شدت کے کوئی حصہ نہ ملا۔تعجب ہے اس پر جس کو دُھتکار دیا گیا پھر بھی وہ کیسے عید پر خوشیاں مناتا ہے؟

    حضرت سیِّدُنا وہب بن منَبِّہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ'' ایک دفعہ تین نیک عالِم عید کے دن نکلے، اُن میں سے ایک نے یوں دعا کی : ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ تُو نے اپنی نازل کردہ کتاب میں ہمیں حکم دیاکہ ہم اِس دن غلام آزاد کریں، ہم تیرے غلام ہیں لہٰذا تو ہماری گردنوں کو جہنم سے آزاد فرمادے۔''پھر دوسرے نے یوں دعاکی :''یااللہ عَزَّوَجَلَّ!تو نے قرآنِ پاک میں ہمیں حکم دیا کہ ہم مساکین کو خالی ہاتھ نہ لوٹائیں،ہم تیرے مسکین بندے ہیں لہٰذا تو ہمیں خالی ہاتھ نہ لوٹا۔''اس کے بعد تیسرے نے عرض کی: ''یااللہ عَزَّوَجَلَّ! تو نے اپنی نازل کردہ مقدَّس کتاب میں حکم دیا ہے کہ ہم ظالموں سے درگزر کریں، ہم تیرے بندے ہیں ، ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے لہٰذا تو ہماری مغفرت فرمااور ہم پر رحم فرما، بے شک تو سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔
وَصَلَّی اللہ عَلٰی سیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ اَجْمَعِیْن ۔
Flag Counter