Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
248 - 649
گزراتو میں نے اس کی طرف دیکھ لیا،جس کی سبب مجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سامنے سترسال کھڑا رکھا گیااور اس گناہ سے شرمندگی کی وجہ سے پسینہ بہتا رہا، پھر اس نے اپنے فضل سے مجھے معاف فرما دیا۔''

    حضرت سیِّدُنا ابو عبداللہ زرادعلیہ رحمۃاللہ الجواد کو خواب میں دیکھ کر پوچھاگیا:
''مَافَعَلَ اللّہُ بِکَ؟
یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟''توانہوں نے فرمایا :''میں نے تمام گناہوں کا اقرار کیااوراللہ عَزَّوَجَلَّ نے انہیں بخش دیا سوائے ایک گناہ کے کہ مجھے اس کا اقرار کرنے سے حیاء آئی اور مجھے پسینے میں کھڑ ا کردیا گیایہاں تک کہ میرے چہرے کا گوشت جھڑ گیا۔''ان سے عرض کی گئی: ''وہ گناہ کیا تھا؟''توانہوں نے فرمایا:''میں نے ایک خوبصورت شخص کو دیکھاتھا۔''

    اے ابن آدم!تیری آنکھیں حرام میں آزاد ہیں اور تیری زبان گناہوں میں طویل ہو رہی ہے،تیراجسم دنیا کی دولت کمانے میں تھکاوٹ قبول کر رہا ہے۔بہت سی بد نگاہیاں ایسی ہیں کہ جن کی وجہ سے قدم پھسل جاتے ہیں۔ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو!جان لو! عید کا دن سعادت کا دن ہے۔ اس میں کچھ لوگ نیک بخت ہوتے ہیں اورکچھ بد بخت۔ اس بندے کو مبارک باد ہو جس کے اعمال اس دن قبول کر لئے گئے،اوراس کے لئے ہلاکت ہے جس کے اعمال رد کر دیئے گئے۔ یہ تو ایسا دن ہے جس میں مقبول کو مبارکباددی جاتی ہے اور مردودکو تسلِّی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پر رحم فرمائے! بُرے اعمال سے اجتناب کرو اور رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ والے کاموں کی کوشش کرو، عنقریب وہ تمہیں برے اعمال سے نجات عطا فرما دے گا۔
اِنعام واِکرام کی رات:
    حضورنبئ کریم، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ جنت نشان ہے:''عید الفطر کی رات کا نام
''لَیْلَۃُ الْجَائِزَہ''
(یعنی انعام و بخشش کی رات) رکھا گیا ہے۔ جب صبح ہوتی ہے تواللہ عَزَّوَجَلَّ ملائکہ کو ہرشہر میں بھیجتا ہے،وہ زمین پر اُترتے ہیں اور گلی کُوچوں پر کھڑے ہو کر ایسی آواز سے اعلان کرتے ہیں جو جِنّ و اِنْس کے علاوہ تمام مخلوق سنتی ہے،وہ کہتے ہیں:''اے امتِ محمدیہ علٰی صاحبہا الصلٰوۃ والسلام! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاؤجو کبیرہ گناہوں کوبھی بخش دیتا ہے۔''جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے: ''اے میرے فرشتو ! مزدور جب اپناکام پوراکرلے تو اس کی جزاء کیا ہے؟'' ملائکہ عرض کرتے ہیں: ''اے ہمارے معبود اوراے ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ ! اس کی جزاء یہ ہے کہ اس کو پورا پورا اجر دیا جائے۔'' چنانچہ ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے : ''اے میرے ملائکہ! گواہ ہو جاؤکہ میں نے انہیں ماہِ رمضان کے روزوں اور نمازوں کا ثواب یہ دیاکہ میں ان سے راضی ہو گیااور انہیں بخش دیا۔'' پھر اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ''مجھ سے سوال کرو ،میری عز ت و جلال کی قسم! جب تک تم مجھ سے ڈرتے رہو گے میں ضرور تمہارے گناہوں پر پردہ ڈالے رکھوں گا۔ میری عز ت و جلال کی قسم! آج کے اس اجتماع میں
Flag Counter