Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
247 - 649
گُھومی اور ان کے چہروں کو مٹی تلے دَباکر ختم کر دیا گیا۔ اور آفات نے بغير کسی بدلے کے ان کا سب کچھ لے لیا اور ذلت ورسوائی ان کا مقدَّر بن گئی، موت نے ان کی امیدوں کو خاک میں ملادیا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !ان کے روزوں اور صدقہ وخیرات کا سلسلہ ختم ہوگیااور آندھیوں نے ان کی قبروں کو مِسمار کرکے برابرکردیا اورقبروں میں ان کے جسم بِکھر گئے۔ عنقریب تیرا اورتیرے اہل و عیال کا بھی یہی حال ہوگا، پس اے عبرت نہ پکڑنے والے! جاگ جا اور اپنی حفاظت کی کوشش کر۔کتنی بار موت کی ہولناکی کو تو سن اور دیکھ چکا ہے۔ اے لمبی اُمید والے! اے نرمی سے محروم اور فضول کاموں میں مشغول شخص! اے موت کے سبب فناہونے والے اور اے عاقبت کو برباد کردینے والے کاموں میں مشغول شخص! اب بھی توبہ کی تیاری نہ کریگا تو پھر کب کریگا؟ بے شک موت کا قاصد بُڑھاپا آچکا ہے۔ کیا تونے اکثر عمر ٹال مٹول میں نہیں گزاری؟ اے کثرت سے گناہوں میں مستغرق رہنے والے!کیا توتقدیر کے حملوں کا شکار نہیں ہوگا؟ کل بروزِ قیامت سب کا معاملہ اکٹھا ہوجائے گا اور عنقریب فیصلہ کر دیا جائے گا۔ اے کم زادِراہ والے ! موت کا حُدِی خواں اعلان کر چکا ہے،پس تو ضائع اور بے کار ہونے کے لئے تیار ہوجا۔ 

    حضرت سیِّدُنا ابو یعقوب نہرَجُوری رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ'' میں نے دورانِ طواف ایک شخص کو دیکھا، وہ یہی دعا کئے جا رہا تھا: ''میں تجھ سے تیری پناہ مانگتاہوں۔'' میں نے اس سے پوچھا:''یہ کون سی دعا ہے؟''وہ بولا: ''میں پچاس سال سے مکہ شریف میں رہ رہا ہوں۔ ایک دن میں نے ایک خوبصورت شخص کو دیکھا تووہ مجھے پسندآ گیا۔ اچانک مجھے ایک تھپڑ پڑا، میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے،میں نے آہ بھری تو ایک دوسرا تھپڑ آ لگا، پھر کسی نے کہا: ''اگر تُو زیادہ کرتا تو ہم بھی زیادہ کرتے۔'' 

    حضرت سیِّدُنا محمد بن عبداللہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ'' میں اپنے استاذحضرت سیِّدُنا ابو بکر دقَّاق علیہ رحمۃ اللہ الرزّاق کی معیَّت میں تھا کہ ایک اَمْرَد گزرا، میں نے اس کی طرف دیکھا تو میرے استاذِمحترم نے مجھے ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیا۔ تو انہوں نے فرمایا: ''اے میرے بیٹے! تجھے اس کی سزا ضرور ملے گی، اگرچہ کچھ عرصہ بعد ہی ہو۔''چنانچہ میں بیس سال تک اس سزا کا انتظار کرتا رہا۔ ایک رات اسی پریشانی میں سویا۔ جب صبح ہوئی تَو مجھے سارا قرآن بھلادِیا گیا تھا، اور کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا: ''یہ اس ایک نظر کی سزا ہے۔''
(غذاء الالباب فی شرح منظومۃ الآداب، مطلب فی فوائد غض البصر، المقام الثانی،ج۱، ص۱۳۲)
    حضرت سیِّدُنا ابو بکر کتَّانی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ''میں نے ایک دوست کو خواب میں دیکھ کر پوچھا:
''مَا فَعَلَ اللّہُ بِکَ؟
یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا۔''تَواس نے جواب دیا:'' میرے گناہ میرے سامنے لا کر پوچھا گیا: ''تُونے یہ گناہ کیا تھا ؟'' میں نے عر ض کی :''جی ہاں۔'' پھر پوچھاگیا:''کیا تُونے فلاں فلاں گناہ بھی کیا تھا؟''میں نے پھر اِقرار کرلیا۔ لیکن جب تیسری بار پوچھا گیاکہ کیا تُو نے فلاں گناہ بھی کیا تھاـ؟تومجھے اس کا اقرار کرنے سے بہت شرمساری ہوئی۔''آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، میں نے اپنے دوست سے پوچھا:''وہ گناہ کیاتھا؟''بولا:''میرے قریب سے ایک خوبصورت لڑکا
Flag Counter