Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
246 - 649
    حضرت سیِّدُنا ربیع بن خیثم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نظر کی حفاظت کے لئے اپنی آنکھوں کوبہت زیادہ جھکائے رکھتے یہاں تک کہ لوگ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کونابینا گمان کرتے۔ حضرت سیِّدُنا ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر بیس سال تک آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جانا رہا۔ جب بھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دروازہ کھٹکھٹاتے تَولونڈی باہرنکل کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس حال میں دیکھتی کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی نظر کو جھکائے ہوئے ہوتے تو وہ اپنے آقا سے کہتی، آپ کا نابینا دوست آیاہے۔حضرت سیِّدُنا ابنِ مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ لونڈی کی اس بات سے مُسکرادیاکرتے۔اورجب حضرت سیِّدُنا ربیع بن خیثم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھتے تَو فرماتے:
وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾
ترجمۂ  کنزالایمان:اے محبوب! خوشی سنادو ان تواضع والوں کو۔(پ۱۷، الحج:۳۴)'' اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اگر حضرت سیِّدُنا محمدِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم آپ کو دیکھتے تو آپ سے خوش ہوتے اور آپ کو بہت پسند فرماتے ۔''
 (احیاء علوم الدین،کتاب اسرار الصلاۃ، الباب الثالث، حکایات واخبار فی صلاۃ الخاشعین، ج۱، ص۲۳۲)
    بعض صالحین رحمہم اللہ المبین فرماتے ہیں:'' اے لوگو!کَشتی غرق ہو رہی ہے پھر بھی ہم سورہے ہیں نہ جانے ہمارے ساتھ کیسا معاملہ کیا جائے گا؟ جبکہ ہمارے افعال قبیح اور باتیں بُری ہیں ،ہم سخت وبال اور عذاب میں گھِرے ہوئے ہیں اورہروقت حرام کو دیکھتے ہیں۔

    حضرت سیِّدُنا شیخ جمال الدین ابو الفَرَج بن جوزی علیہ  رحمۃاللہ القوی نقل فرماتے ہیں کہ ''نظر کی سزاکے بارے میں حضرت سیِّدُنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ ایک شخص اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اس سے خون ٹپک رہا تھا۔ رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اِستِفسار فرمایا: ''تجھے کیا ہوا؟'' اُس نے عرض کی :''میرے قریب سے ایک عورت گزری، میں نے اس کی طرف دیکھا، میری نظر مسلسل اس کا پیچھا کررہی تھی کہ میں ایک دیوار سے ٹکرا گیااور میرے ساتھ وہ ہوا جو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ملاحظہ فرمارہے ہیں۔''رسو ل اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ جب کسی بندے سے بھلائی کاارادہ فرماتا ہے تَودنیا میں ہی اُسے سزا دے دیتا ہے۔''
     (جامع التر مذی ،ابواب الزھد،باب ماجاء فی الصبر علی البلاء،الحدیث ۲۳۹۶، ص۱۸۹۲)
    ماہِ رمضان کے آغاز میں بہت سے لوگو ں نے نمازِ تراویح پڑھنی شروع کردی اور طلبِ ثواب کے لئے مساجد میں چراغ جلائے، وسیع وعریض مقامات کوعبادت سے بھر دیا اور اپنی نیکیوں کے ذریعے ہر برائی کا خاتمہ کر دیا۔ لیکن اس مقدس مہینے کے اِختِتام پر جب برائی کاحملہ کرنے والے نے ان پر حملہ کیاتو وہ مغلوب ہوگئے ۔شکار کرنے والے نے ان کو باندھ دیاتو وہ قیدی ہو گئے۔ ہلاکت نے اپنے سمندر میں ان کو غوطہ زن کیاتو وہ ڈوب گئے ۔ جب وہ اِنتِقال کر گئے توانہیں مال نے کچھ نفع دیا نہ اُمیدوں نے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !وہ رفتہ رفتہ ہم سے کُوچ کر گئے، ان کی دنیا میں بنائی ہوئی سب عمارتیں ٹُوٹ گئیں ،ان پر موت کی چَکی
Flag Counter