| حکایتیں اور نصیحتیں |
کچھ پیدل اور کچھ سوار ،کچھ خوش اور کچھ غمگین ،کچھ جنت کی نعمتوں کی طرف اور کچھ جہنم کے عذاب کی طرف پلٹیں گے۔تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِعظمت و شرافت،محسنِ انسانیت، مَحبوبِ رَبُّ العزت عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ''لوگوں کو اپنی قبروں سے تین حصوں میں اُٹھایاجائے گا، ایک تہائی سواریو ں پر اور ایک تہائی پیدل ہوں گے اور ایک تہائی چہروں کے بل گھسیٹے جائیں گے۔''
(فردوس الاخبار للدیلمی،باب الیاء،الحدیث۸۴۹۸،ج۲،ص۵0۱، بتغیرٍ)
جس طرح لوگ عیدگاہ میں امام کا انتظار کرتے ہیں،اسی طرح بروزِ قیامت محشر کے کھلے میدان میں ٹھہر کر اس جزاوسزاکا انتظار ہو گا جس کا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے وعدہ فرمارکھاہے۔ اور خطبہ میں اشارہ ہے کہ جب امام خطبہ دیتاہے تو لوگ خاموش ہو جاتے ہیں اسی طرح اللہ عَزَّوَجَلَّ لوگوں سے حساب کتاب لے گااور سزا سنائے گاجبکہ ہم خاموش ہوں گے۔اور عید گاہ میں لوگوں کے مختلف درجے، قیامت میں لوگوں کے مختلف درجوں کے مشابے ہیں۔کچھ سائے میں بیٹھتے ہیں اور کچھ دھوپ میں اسی طرح بروزِقیامت کچھ پسینے میں شرابور ہوں گے اور کچھ عرش کے سائے میں مزے لُوٹ رہے ہوں گے۔ اسی طرح لوگوں کا عید گاہ سے لوٹنا بھی قیامت کی یاد دِلاتا ہے کہ بعض کی عبادت قبول ہو جاتی ہے جبکہ بعض کی مردود۔
حضرت سیِّدُنا وہب رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے بارے میں مروی ہے کہ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ عید کے دن نکلے تو اپنے سر پر مِٹی اور راکھ ڈالنے لگے۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے عرض کی گئی: ''آج تو خوشی اور زینت کا دن ہے۔'' تَوآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا: ''یہ اس شخص کے لئے سُرور و زینت کادن ہے جس کے روزے مقبول ہو گئے۔''آنکھوں کا قفلِ مدینہ:(۱)
حضرت سیِّدُنا حسان بن ابی سنان علیہ رحمۃاللہ المنّان عید کے دن گھر سے باہرتشریف لے گئے جب آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ واپس آئے تو آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی زوجہ کہنے لگی: ''آج آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے کتنی حسین عورتوں کو دیکھا؟'' آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ''اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !میں یہاں سے جانے کے بعد واپس آنے تک اپنے پاؤں کے انگوٹھے پرہی دیکھتا رہا۔''
سلف صالحین نظر کے فتنہ سے بچنے کے لئے اور برے خاتمے کے خوف سے اپنی نگاہیں بہت زیادہ جھکا کر رکھتے۔بعض علمائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:'' نظر کے فتنوں سے بچو! کیونکہ یہ دیکھی جانے والی صورت کو دِل میں نقش کر دیتی ہے۔ اور بے شک دُنیا کے عیوب ظاہر ہیں،کتنے ہی آزمائش کے دروازے کھول دئیے گئے اور آنکھ کے دھوکے جیسا کوئی دھوکا نہیں۔''1۔۔۔۔۔۔''قفل مدینہ''دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں بولی جانے والی ایک اِصْطِلاح ہے۔ کسی بھی عضوکو گناہ اور فضولیات سے بچانے کو''قفل مدینہ'' لگانا کہتے ہیں۔
ترجمۂ کنز الایمان:انہیں غم میں نہ ڈالے گی وہ سب سے بڑی گھبراہٹ اور فرشتے ان کی پیشوائی کو آئیں گے کہ یہ ہے تمہاراوہ دن جس کا تم سے وعدہ تھا۔(پ۱۷،الانبیآء: ۱0۳)
اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بدلیوں سے پانی اُتارا،اور اپنے فضل و کرم سے کامل طور پر نعمتیں عطا فرمائیں،اپنے بندوں کے متعلق جو چاہتاہے فیصلہ فرماتاہے۔ کیونکہ ،خود ارشاد فرماتا ہے: