| حکایتیں اور نصیحتیں |
اگر کوئی عورت (نمازِعید کے لئے) نکلنے پر بَضِد ہو تو اُس کا شوہر اُسے پھٹے پرانے کپڑوں میں نکلنے کی اجازت دے اور وہ زینت بھی نہ کرے ۔ اگر وہ اس طرح نکلنے سے انکار کرے تو شوہر اُسے نکلنے سے منع کر دے ۔
حضرت سیِّدُنا ابو اُمامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن، جنابِ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم کا فرمانِ فَرْحت نشان ہے: ''جس نے عیدین (یعنی عید الفطر وعید الاضحی) میں شب بیداری کی تو اس کا دل اس دن نہ مرے گا جس دن لوگوں کے دل مر جائیں گے۔''(سنن ابن ماجۃ،ابواب الصیام ،باب فیمن قام لیلتی العید ین،الحدیث ۱۷۸۲، ص۲۵۸۳)
حضرت سیِّدُنا اِبنِ عمررضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے، شہنشاہِ خوش خِصال، پیکر ِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُود و نَوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمانِ حقیقت نشان ہے:''سب سے زیادہ عظمت والی راتیں عید الاضحی اور عید الفطر کی راتیں ہیں۔''
رحمت والی چارراتیں:
حضرت سیِّدُنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباذنِ پَرْوَرْدْگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم کا فرمانِ جنت نشان ہے: ''چارراتوں میں اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندوں پر بہت زیادہ رحمت نازل فرماتا ہے:رجبُ المرجب کی پہلی رات، شعبان کی پندرہویں رات،عید الفطر کی رات اور عید الاضحی کی رات۔''(شعب الایمان للبیھقی،باب الصیام فی لیلۃ العید ویومھما ، الحدیث۳۷۱۳،ج۳،ص۳۴۲، بتغیرٍ)
عیدکوعیدکہنے کی وجہ:
عیدکواس لئے عید کہتے ہیں کیونکہ اس میں خوشی و سرور لوٹ آتے ہیں۔ بعض کے نزدیک اسے عید کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ شرف و عزت والا دن ہے۔ لہٰذا ایک عقلمند انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تعظیم کرتے ہوئے، قبلہ رُو ہو کر کثرت سے اس کا ذکر کرے۔
عیدمیں روزِ محشر کی یاد ہے:
عید کا دن یومِ قیامت کے مشابہ ہے جس دن گرج دار کڑک اور صور پھونکنے کی آواز سنائی دے گی۔ اور طبلوں کا بجنا گرج دار کڑک کی یاد دِلاتا ہے اور بگل کا بجنا صور پھونکنے کی یاد دلاتا ہے، عید گاہ میں لوگوں کا اِجتماع میدانِ محشرمیں لوگوں کے اجتماع کی یاد ہے کہ وہ مختلف رنگ ونسل کے ہوں گے اور ان کے احوال بھی مختلف ہوں گے۔ کچھ کے لباس سفید اور کچھ کے سیاہ،
1 ۔۔۔۔۔۔مفسِّرِشہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل، سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ''مسئلہ : توبہ ہر ایک گناہ سے واجب ہے اور توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی بدی و معصیت سے باز آئے اور جو گناہ اس سے صادر ہوا اس پر نادم ہو اور ہمیشہ گناہ سے مُجتَنِب رہنے کا پختہ ارادہ کرے اور اگر گناہ میں کسِی بندے کی حق تلفی بھی تھی تو اس حق سے بطریقِ شرعی عہدہ برآہو۔'' 2 ۔۔۔۔۔۔مفسِّرِشہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل، سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ''حضرتِ کعب احبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :''تو ریت میں سب سے اوّل یہی آیت ہے۔ اس آیت میں بندوں کو شانِ استغناء کے ساتھ حمد کی تعلیم فرمائی گئی اور پیدائشِ آسمان وزمین کا ذکر اس لئے ہے کہ ان میں ناظرین کے لئے بہت عجائب ِ قدرت وغرائب ِحکمت اور عبرتیں ومنافع ہيں۔یعنی ہر ایک اندھیری اور روشنی خواہ وہ اندھیری شب کی ہو یا کُفر کی یا جہل کی یا جہنّم کی اورروشنی خواہ دن کی ہو یا ایمان و ہدایت و علم و جنت کی۔ ظلمات کوجمع اور نورکو ۔۔۔۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر