Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
243 - 649
عیدُ الفطر کے مستحبات:
    عید الفطر کے دن مستحب ہے کہ بندہ غسل کرے، مسواک کرے، اچھے کپڑے پہنے اور صدقۂ فطر اداکرے اور پھر کچھ کھا کر پیدل عید گاہ کا رُخ کرے، سوار ہو کر نہ جائے، البتہ! کوئی عذر ہو تو سوار ہو کر جا سکتا ہے،اور عید گاہ کی طرف ایک راستے سے جائے اور دوسرے سے واپس آئے، کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ملائکہ کو بھیجتا ہے، وہ راستوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور اپنے پاس سے گزرنے والے ہر شخص کا نام لکھتے ہیں،اس لئے ایک راستے سے جانااور دوسرے سے واپس آنامستحب ہے۔

    حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبئ کریم، ر ء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم عید کے دن ایک راستے سے جاتے اوردوسرے سے واپس آتے تھے ۔
 (جامع الترمذی ،ابواب العیدین ،باب ماجاء فی خروج النبی صلَّی اللہ علیہ وسلَّم۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۵۴۱، ص ۱۶۹۸)
    حضرت سیِّدُنا بُرَیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے پیارے حبیب ، حبیب ِ لبیب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم عید الفطر کے دن جب تک کچھ کھا نہ لیتے (عیدگاہ کی طرف ) نہ نکلتے، اور عید الاضحی کے دن جب تک نماز نہ پڑھ لیتے کچھ نہ کھاتے۔
 (المرجع السابق،الحدیث۵۴۲)
    حضرت سیِّدُنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبئ پاک، صاحب ِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم عید الفطر کے دن عیدگاہ کی طرف نکلنے سے پہلے چند کھجوریں تناول فرماتے تھے۔
    (المرجع السابق،الحدیث۵۴۳)
    حضرت سیِّدُنا اُمِّ عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے مروی ہے کہ نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم کے حکم سے عیدین میں کنواریاں، بالغات، پردے والیاں اور حیض والیاں (نمازِعید کے لئے)نکلتی تھیں، اور حیض والیاں عید گاہ سے الگ ہوتیں اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوتیں۔ اُن میں سے کسی ایک نے عرض کی: ''یارسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم! اگر کسی کے پاس چادر نہ ہو تو؟'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشادفرمایا:'' اُس کی بہن اپنی چادر اس کو اُدھار دے دے۔''
 (المرجع السابق،الحدیث ۵۳۹)
    اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے مروی ہے، فرماتی ہیں کہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم ہمارے زمانے کی عورتوں کی نئی نئی باتیں ملاحظہ فرماتے توان کو مسجد میں جانے سے منع فرما دیتے، جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا تھا۔'' حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ''میں آج کے دَور میں عیدین میں عورتوں کے نکلنے کو ناپسند جانتا ہوں۔''
 (جامع الترمذی ،ابواب العیدین ،باب ماجاء فی خروج النبی صلَّی اللہ علیہ وسلَّم۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۵۴0، ص ۱۶۹۸)
Flag Counter