Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
242 - 649
رسول ہیں۔ جنہوں نے اپنے مقدّس ہاتھ کی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری فرما دیئے،آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم کی آل، اولاد، صحابۂ  کرام،ازواج مطہرات علیہم الرضوان اوران کی اِتباع کرنے والے ہر امتی پر اس وقت تک رحمتِ کاملہ نازل ہوتی رہے جب باپ بیٹے سے بھاگ رہاہوگا،اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم پر خوب سلام ہو جو زمانے کے ختم ہونے سے ختم نہ ہوبلکہ ہرنئے زمانے میں اپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم پر نیا سلام ہو۔

     حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم حضورنبئ کریم ، رء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم کی حیاتِ ظاہری میں ایک صاع کھانا یا ایک صاع جَو یا ایک صاع کھجور صدقۂ فطر نکالتے تھے۔''
 (جامع الترمذی ،ابواب الزکاۃ ، باب ماجاء فی صدقۃ الفطر، الحدیث ۶۷۳، ص۱۷۱۳)
    حضرت سیِّدُناعمرو بن شعیب رحمۃ اللہ تعالیٰ عنہ اپنے باپ سے اوروہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم نے مکہ کی شاہراہوں پرایک اعلان کرنے والا بھیجا (اس نے اعلان کیا) '' سن لو! بے شک صدقۂ فطر دو مُد گندم یاایک صاع کھانا ہر مسلمان مردو عورت ،آزادو غلام ،چھوٹے بڑے پر واجب ہے۔''
  (المرجع السابق، الحدیث۶۷۴)
    حضرت سیِّدُنا اِبنِ عمررضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم نے ہرمرد، عورت، آزاد اور غلام پر ایک صاع کھجو ریا ایک صاع جَو صدقۂ فطر واجب فرمایا۔
 (صحیح البخاری، ابواب صدقۃ الفطر، باب صدقۃ الفطر علی الحر والمملوک،الحدیث۱۵۱۱،ص۱۱۹)
صدقۂ فطر نمازِعید سے پہلے ادا کرنا:
    حضرت سیِّدُنا نافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ،حضرت سیِّدُناابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ''شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحب ِ معطر پسینہ، باعث ِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم ہمیں حکم فرماتے کہ عیدُ الفطر کے دن نمازِ عید سے پہلے صدقۂ فطر ادا کریں۔''اور علمائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ صدقۂ فطر نمازِ عید سے پہلے دینا مستحب ہے۔
 (جامع الترمذی،ابواب الزکاۃ،باب ماجاء فی تقدیمھا قبل الصلاۃ،الحدیث۶۷۷،ص۱۷۱۳)
     سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ ،با عث ِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمان ہے:''فقراء کو ایسے دِنوں میں سوال کرنے سے غنی کر دو۔''
    (سنن الدارقطنی،کتاب زکوٰۃ الفطر،الحدیث۲۱۱۴،ج۲،ص۱۹۲۔البنایۃ شرح الھدایۃ،کتاب الزکاۃ،باب صدقۃ الفطر، فصل فی مقدارالواجب ووقتہ،ج۳،ص۵0۴)
Flag Counter