Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
230 - 649
بڑھنے کے ساتھ ساتھ میرے گناہوں میں بھی اضافہ ہوتا رہا۔ ہلاکت و بربادی ہو مجھ پر! کتنی ہی مرتبہ میں نے توبہ کی پھر توڑ دی۔ اب وقت ہے کہ میں علاَّمُ الغیوب پروردْگار عَزَّوَجَلَّ سے حیاء کروں۔

؎ کرکے توبہ پھر گناہ کرتا ہے جو 		میں وہی بدکار ہوں کر دے کرم

    پھر اس نے چند اشعار کہے، جن کا مفہوم یہ ہے:

    ''افسوس! میں نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کی پس جب میرا نامۂ اعمال ظاہر ہو گاتو میرے پاس کون سا عذرہو گا؟ جب مجھے اس کی بارگاہ میں ذلیل کھڑ اکیا جائے گا تو گناہوں کا ارتکاب کرنے پر کیا عذر پیش کروں گا؟ اے تمام لوگوں سے بے نیاز اور میرے تمام کرتوتوں پر خبردار! میرے پاس اپنے ان گناہوں اور جرموں کاکوئی عذر نہیں،مولیٰ ! بس اپنی رحمت سے میری خطائیں معاف فرما دے۔ اے میرے مالک ومولیٰ عَزَّوَجَلَّ!تونے مجھے سیدھے راستے پر چلنے کاحکم دیا اور گمراہی کے راستے سے منع فرمایا اورتُویہ بھی جانتا تھا کہ میں اس راستے سے بھاگ نہیں سکتا تھا خیر و شرمیں سے جوتُو نے میرے لئے مقدَّر کر رکھا تھا۔ لہٰذا میں بلا اختیار اسی پر چل پڑاکیونکہ بندہ تومحکوم ہوتا ہے۔ لہٰذا اے میرے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ! میری توبہ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما اور اپنے گناہوں کااعتراف کرنے والے بندے سے در گزر فرما۔''

    حضرت سیِّدُنا منصوربن عمار علیہ رحمۃاللہ الغفار فرماتے ہیں کہ'' میں اس کلام کو سن کر رونے لگا اور اللہ عزَّوَجَلَّ کے اس فرمانِ عالیشان کی تلاوت کرنے لگا :
(7) قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسْرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوۡا مِنۡ رَّحْمَۃِ اللہِ ؕ اِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿53﴾
ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ! اے میرے وہ بندوجنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے ناامیدنہ ہو،بے شک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے، بے شک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔ (پ24،الزمر:53)

    آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''اچانک میں نے انتہائی اضطراب کی حالت میں کسی کے گرنے کی آواز سنی۔جب صبح کے وقت میں اسی دروازے کے پاس سے گزراتو میں نے دیکھا کہ ایک شخص کا جنازہ رکھا ہوا ہے اور ایک عورت گھر کے اندر اور باہر آ جارہی ہے اور یہ کہہ رہی ہے: '' اے میرے بیٹے!اے غموں کے مارے ہوئے بیٹے!اے قرآن سن کر شہید ہونے والے بیٹے!'' میں نے اس کے قریب ہو کر پوچھا : ''اے اللہ عزَّوَجَلَّ کی بندی ! ذرا یہ تو بتاکہ مرنے والا کون ہے؟'' تو وہ بولی،''یہ میرا بیٹا اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔یہ کھجور کے پتے بیچا کرتا تھا اور اس کمائی میں سے ایک تہائی مجھے دیتا، ایک تہائی اپنی ضرورت کے لئے رکھتا اورایک تہائی صدقہ کر دیتا۔ آج اس کے پاس سے کوئی شخص گزرا اور اُس نے قرآنِ پاک کی ایک آیتِ مبارکہ تلاوت کی جس کو سُنتے ہی اس کی روح قَفَسِ عُنْصُری سے پرواز کرگئی۔اب میرے پاس کوئی حیلہ وتدبیر نہیں ۔''
Flag Counter