| حکایتیں اور نصیحتیں |
حضرت سیِّدُنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعث ِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ''بندہ مالِ حرام میں سے جو بھی کمائے اور اسے خیرات کرے تو وہ قبول نہیں ہوتا اوراسے خرچ کرے تو اس میں برکت نہیں ہوتی اوراسے اپنے بعد والوں کے لئے چھوڑے تووہ اس کے لئے آگ کا توشہ ہوگا۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل ،مسند عبداللہ بن مسعود،الحدیث۳۶۷۲،ج۲ ،ص۳۳،بتغیرٍقلیلٍ)
حضرت سیِّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب سینہ ،با عثِ نُزولِ سکینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ حقیقت نشان ہے : ''اے لوگو!تم میں سے ہر گز کوئی موت کا شکار نہ ہو گا جب تک کہ وہ اپنا مکمل رزق نہ پا لے لہٰذا تم رزق کے متعلق تنگ دل نہ ہو اور اللہ عزَّوَجَلَّ سے ڈرواور عمدہ طریقے سے رزق طلب کرو، اور اللہ عزَّوَجَلَّ کی حلال کردہ چیزیں لے لو اور حرام کردہ چھوڑ دو۔''
(المستدرک،کتاب الرقاق، باب الحسب المال والکرم التقوی، الحدیث۷۹۹۴،ج۵، ص۴۶۴)
افسوس، تعجب ہے تجھ پر! جب بھی اللہ عزَّوَجَلَّ نے نعمتوں کی بِساط بچھائی تو تو نے نافرمانی کرکے اس کا مقابلہ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ''اے میرے بندے! کتنی ہی بار ہم نے دیکھا کہ تو نے ہماری محفل چھوڑ کر شیطان کی مجلس اپنائی، میں نے تجھ پر کتنے احسانات و انعامات فرمائے اور میں منَّان ہوں۔ اے میرے بندے! میں تو تجھے اپنے وصال کی دولت سے نوازنا چاہتا ہوں اور تو ہے کہ ہجروفراق کو محبوب رکھتا ہے،اس وقت تیرے پاس کیا حیلہ ہو گاجب تجھ پرمیرا غضب ہو گا اور تیرے اہل و عیال بھی تجھ سے دور بھاگ رہے ہوں گے۔'' اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿1﴾حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ؕ﴿2﴾
ترجمۂ کنزالایمان:تمہیں غافل رکھامال کی زیادہ طلبی نے یہاں تک کہ تم نے قبروں کامنہ دیکھا۔(پ30، التکاثر:1۔2)
حضرت سیِّدُنا منصور بن عمار علیہ رحمۃاللہ الغفار ارشاد فرماتے ہیں کہ'' میں ایک سال حج کی سعادت سے بہرہ مند نہ ہو سکا، اور کوفہ کی ایک تنگ گلی میں ٹھہر گیا۔ ایک اندھیری رات میں گھر سے باہر نکلاکہ اچانک رات کی تاریکی کو چیرتی ہوئی ایک تیز آواز میرے کانوں سے ٹکرائی، کوئی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں محو ِ التجا تھا:''اے میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ!تیرے عزت و جلال کی قسم! میں نے گناہوں سے تیری مخالفت مول لینے کا ارادہ نہ کیا تھا بلکہ جب میں نے یہ گناہ کئے تھے تو میں تیرے مقام و مرتبے سے ناواقف تھا لیکن جب میں نے گناہ کئے اورمیرے نفس نے مجھے برائی کو اچھائی ظاہر کرکے دھوکا دیا اور میری بدبختی مجھ پر غالب آگئی پھر بھی تیری رحمت نے میری پردہ پوشی کی اور تیری اس پردہ پوشی سے میں دھوکا کھا گیااور اپنی جہالت کی وجہ سے تیری نافرمانی کرنے لگا اور محض اپنی بدبختی کی وجہ سے تیری مخالفت کی لیکن اب تو میں جان چکا ہوں کہ مجھے تیرے عذاب سے نجات دلانے والا کوئی نہیں؟ اے میرے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ! اگر تو نے مجھے اپنی رحمت سے دور کردیا تو مجھے کو ن سنبھالے گا؟ہائے حسرت و افسوس! میری عمر