Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
231 - 649
    پیارے اسلامی بھائیو!کیا مسافر کے لئے اپنا زادِ راہ تیار کرنے کا وقت نہیں آیا؟ کیاابھی وہ وقت نہیں آیا کہ نافرمان مرنے سے پہلے توبہ کر لے؟ تم پر افسوس!تمہارا کتنا برا حال ہے! کل تمہیں اہل و عیال اور مال ودولت کوئی نفع نہ دیں گے تو پھر کب تک اس غفلت و نیند کا شکار رہو گے؟تمہاری جوانی کے دن گزر چکے ہیں پھر بھی تمہارے اعمال پر تمہارامددگارکوئی نہیں۔

    اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿1﴾حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ؕ﴿2﴾
ترجمۂ کنزالایمان:تمہیں غافل رکھامال کی زیادہ طلبی نے یہاں تک کہ تم نے قبروں کامنہ دیکھا۔

     حضرت سیِّدُنا خلیل عصیری علیہ رحمۃاللہ القوی فرمایا کرتے تھے کہ'' ہم میں سے ہر ایک کو موت کا یقین ہے پھر بھی ہم اس کے لئے تیار نظر نہیں آتے، ہم سب کو جنت کا پختہ یقین ہے مگرپھر بھی اپنے آپ کو اس کے لئے عمل کرتا ہوا نہیں پاتے اور دوزخ کا پختہ یقین ہے لیکن اپنے آپ کو اس کے عذاب سے ڈرتا ہوا نہیں دیکھتے۔

    پیارے اسلامی بھائیو! کس چیز کی بنا پر تم راہِ حق سے منہ موڑے ہوئے ہو ؟کس بات کا انتظار کر رہے ہو؟موت اللہ عزَّوَجَلَّ کی جانب سے تمام خیر و شر کے ساتھ سب سے پہلے تم پر وارد ہو گی۔ اے بھائیو! اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اچھے انداز سے حاضری کی تیاری کرو۔ کب تک تم اسی طرح لہو و لعب میں مبتلا ہو کر ہنستے رہو گےـ؟ عنقریب لوگ تمہاری موت پر افسوس کرتے ہوئے رو رہے ہوں گے۔ تم پرافسوس!کتنی دفعہ تم وعظ ونصیحت کے اجتماعات میں حاضر ہوئے لیکن تمہارا دل غائب رہا۔ اللہ عزَّوَجَلَّ سے بخشش طلب کرتے رہے لیکن پیٹ حرام سے بھرتے رہے۔ اگر آج پھر اس اجتماع سے یونہی چلے گئے اور توبہ نہ کی توکہیں بہت بڑ انقصان نہ اٹھالو۔ یاد رکھو! اس وقت توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے اورتوبہ قبول کرنے والا پرودگار عَزَّوَجَلَّ پکار رہا ہے، ''ہے کوئی توبہ کرنے والا؟'' تواے اسلامی بھائیو!جلدی کرو! توبہ کر لواس سے پہلے کہ توبہ کا دروازہ بند ہو جائے اور چُھپی ہوئی باتوں کی پوچھ گچھ شروع ہوجائے ۔ہماری غفلت کو قرآنِ پاک یوں بیان فرماتا ہے:(پ30، التکاثر:1۔2)
اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿1﴾حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ؕ﴿2﴾
ترجمۂ کنزالایمان:تمہیں غافل رکھامال کی زیادہ طلبی نے یہاں تک کہ تم نے قبروں کامنہ دیکھا۔ (پ30، التکاثر:1۔2)

    اے میرے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ! میری حسرت کتنی بڑی ہے کہ میں دوسروں کو تو تجھے یاد کرنے کا درس دیتا ہوں لیکن خود غافل ہوں۔ اے میرے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ! میری مصیبت کتنی شدید ہے کہ میں دوسروں کو تو غفلت کی نیند سے جگا رہا ہوں لیکن خود سو رہا ہوں۔اے میرے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ! میرا معاملہ کتنا عجیب ہے کہ میں دوسروں کی رہنمائی کر رہا ہوں جبکہ خود حیران وپریشان ہوں۔ اے میرے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ! مجھ پر عفو و کرم کی برسات برسا۔ اے میرے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ!جب میں
Flag Counter