| حکایتیں اور نصیحتیں |
ترجمۂ کنزالایمان:ہاں!ہاں!اگریقین کاجانناجانتے تو مال کی محبت نہ رکھتے۔(پ30، التکاثر:5)
اے لوگو! اللہ عزَّوَجَلَّ کے ہاں تمہاری حیثیت کیا ہو گی جب سکراتِ موت کا ظہور ہو گااور نامۂ اعمال پھیلا دیا جائے گا جو نہ کسی چھوٹے گناہ کو چھوڑے گا نہ بڑے کو۔ ''عِلْمَ الْیَقِیْن'' سے مراد دلوں کااس چیزپراطمینان حاصل کر نا ہے جس سے شک دور ہو جاتا ہے۔(5) لَتَرَوُنَّ الْجَحِیۡمَ ۙ﴿6﴾
ترجمۂ کنزالایمان:بے شک ضرور جہنم کو دیکھو گے۔(پ30، التکاثر:6)
اس سے مراد یہ ہے کہ قبر میں ہر آدمی کو جہنم میں اس کاٹھکانہ دکھایا جاتا ہے، اگر وہ سعادت مند ہو تواسے وہ ٹھکانہ دکھا کر اس سے نجات کی خوشخبری دی جاتی ہے اور اگر بدبخت وشَقِیُّ الْقَلْب ہو تو اس کے لئے جہنم کو برقرار رکھا جاتا ہے۔(6)ثُمَّ لَتَرَوُنَّہَا عَیۡنَ الْیَقِیۡنِ ۙ﴿7﴾ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیۡمِ ٪﴿8﴾
ترجمۂ کنزالایمان:پھربے شک ضروراسے یقینی دیکھنادیکھو گے، پھربے شک ضروراس دن تم سے نعمتوں کی پُرسِش ہوگی۔(۱)(پ30، التکاثر:7۔8)
یعنی بروزِ قیامت صحت اورفراغت کے متعلق پوچھا جائے گا۔ حضرات مجاہد و قتادہ رحمہما اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ''نعیم میں ہروہ چیز داخل ہے جس سے لُطف اندوز ہوا جائے۔''
اے وہ شخص جس پر لوگ نیکیوں میں سبقت لے گئے ہیں اور وہ خواہشات میں گھرا ہوا پیچھے رہ گیا ہے! جس نے اپنی عمر ٹالَمْ ٹَول کرتے ہوئے اور بیہودہ کاموں میں گزار دی۔ اے وہ شخص گناہوں پر جس کا دل سخت ہو چکا ہے اور جس کی آنکھوں سے خوفِ خداعَزَّوَجَلَّ سے آنسو نہیں بہتے! اے وہ شخص جس کے بال سفید ہوگئے پھر بھی وہ نافرمانیوں پر ڈٹا ہوا ہے! کتنی ہی بار تو نے علاَّمُ الغیوب ربّ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرکے اس کامقابلہ کیا؟ تیری غفلت کے متعلق اللہ عزَّوَجَلَّ یوں ارشاد فرماتا ہے :اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿1﴾حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ؕ﴿2﴾
ترجمۂ کنزالایمان:تمہیں غافل رکھامال کی زیادہ طلبی نے یہاں تک کہ تم نے قبروں کامنہ دیکھا۔(پ30، التکاثر:1۔2)
حُسنِ اَخلاق کے پیکر، نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے کہ''جس نے حرام مال کمایا پھر اس کو صدقہ کیا یا اس کے ساتھ صلہ رحمی کی یاراہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں خرچ کیا تو اس کا یہ سارا مال جمع کر کے اس کے ساتھ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔''(مراسیل ابی داؤد، باب زکوٰۃ الفطر، ص۹۔بتغیرٍقلیلٍ)
1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمائی تھیں؛ صحت و فراغ و امن و عیش و مال وغیرہ ،جن سے دُنیا میں لذّتیں اُٹھاتے تھے۔پُوچھا جائے گا :یہ چیزیں کِس کام میں خرچ کیں؟ ان کا کیا شکرادا کیا؟ اور ترکِ شکر پر عذاب کیاجائے گا۔''