| حکایتیں اور نصیحتیں |
پیارے اسلامی بھائیو!اللہ عزَّوَجَلَّ تمہارے حال پر رحم فرمائے! جلدی کرو، تمہارے سامنے پل صراط اور حساب و کتاب کا منظر دکھائی دے رہا ہے۔نزع کی سختیاں سر پہ کھڑی ہیں،وہ دن آیا چاہتاہے جس میں تمام رشتے ختم ہو جائیں گے، نہ اہل و عیال نفع دیں گے، نہ ہی مال ودولت اور کوئی دوسرے اسباب۔ یاتو جنت کی نعمتیں ملیں گی یا پھر جہنم کا عذاب۔ہر ایک زبانِ حسرت سے پکار رہا ہو گا: ہائے افسوس !یہ کیسا نامۂ اعمال میرے ہاتھ میں تھما دیا گیا ہے۔اے وہ شخص جس کو شہواتِ نفسانیہ نے گڑھوں میں دھکیل دیا ہے،اور اے وہ شخص جس نے اپنے ظاہروباطن کو حرام اشیاء سے آلودہ کر دیا ہے اور اے وہ شخص جس کے نامۂ اعمال کو دیکھنے سے آنکھیں بھی کتراتی ہیں ۔اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
(1) اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿1﴾حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ؕ﴿2﴾
ترجمۂ کنزالایمان:تمہیں غافل رکھامال کی زیادہ طلبی نے ،یہاں تک کہ تم نے قبروں کامنہ دیکھا۔(۱)(پ30، التکاثر:1۔2)
'' اَلْھٰکُمْ ''کا معنی ہے، تمہیں غافل کردیا اور''تَکَاثُرْ'' کا معنی ہے، زیادہ طلبی۔اس کا معنی یہ بھی ہے کہ نسب، مال اور اولاد میں کثرت کے سبب ایک دوسرے پر فخر کرنا۔ اللہ عزَّوَجَلَّ مال جمع کرنے والوں اور باہم فخر کرنے والوں کو ارشاد فرمارہا ہے:اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿1﴾حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ؕ﴿2﴾
ترجمۂ کنزالایمان:تمہیں غافل رکھامال کی زیادہ طلبی نے یہاں تک کہ تم نے قبروں کامنہ دیکھا۔(پ30، التکاثر:1۔2)
یعنی جس مال کی وجہ سے تم ایک دوسرے پرفخر کرتے ہو اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں۔اور یہاں پر احتمال ہے کہ یہ قَسم کے قائم مقام تاکید ہے اوریہ بھی احتمال ہے کہ مال کی زیادہ طلبی اور ایک دوسرے پر فخر کرنے پر زجر وتوبیخ کی گئی ہے۔(2) کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوۡنَ ۙ﴿3﴾
ترجمۂ کنزالایمان:ہاں!ہاں!جلدجان جاؤگے۔(پ30، التکاثر:3)
یعنی قیامت کے دن مال کے متوالوں کا محاسبہ ہونے کے بعدتم جان لوگے۔(3) کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوۡنَ ۙ﴿3﴾
ترجمۂ کنزالایمان:پھرہاں!ہاں!جلدجان جاؤ گے۔(پ30، التکاثر:4)
مفسرینِ کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس آیتِ مبارکہ میں ایک بات کو دو بار فرمانا وعید کی تاکید اور منع کردہ فعل پر سختی کے لئے ہے۔1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''اس سے معلُوم ہوا کہ کثرتِ مال کی حرص اور اس پر مفاخرت (یعنی ایک دوسرے پر فخر کرنا) مذموم ہے اور اس میں مبتلا ہو کر آدمی سعادتِ اُخرویہ سے محروم رہ جاتا ہے۔ یعنی موت کے وقت تک حرص تمہارے دامن گیر خاطر رہی۔ حدیث شریف میں ہے، سیّدِ عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا: ''مردے کے ساتھ تین ہوتے ہیں، دو لوٹ آتے ہیں، ایک اس کے ساتھ رہ جاتا ہے۔ ایک مال، ایک اس کے اہل و اقارب۔ ایک اس کا عمل ساتھ رہ جاتا ہے۔ باقی دونوں واپس ہوجاتے ہیں۔''