ترجمۂ کنزالایمان:کچھ منہ اس دن تروتازہ ہوں گے اپنے رب کو دیکھتے۔'' (۱)(پ۲۹،القیامۃ:۲۲۔۲۳)
اللہ عزَّوَجَلَّ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ، صحابہ واہلِ بیت ،ازواجِ مطہّرات اور انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین پر رحمت نازل فرمائے (آمین)جو اس وقت ہمارے دلوں کی حفاظت فرمائے گا جب تو دیکھے گا کہ قیامت کی ہولناکیوں سے دل خوف کے عالم میں اُڑ رہے ہوں گے۔
پیارے اسلامی بھائیو! ذرا ان لوگوں کے متعلق توبتاؤ جو ساری زندگی مال و دولت جمع کرتے رہے لیکن ان کے جمع شدہ مال نے مرنے کے بعد انہیں کوئی فائدہ نہ دیا۔ کیا وہ سب کے سب قبروں میں اکٹھے نہیں ہوگئے؟وہ لوگ جنہوں نے ساری زندگی خواہشاتِ نفسانیہ کی پیروی میں بسر کی مگر پھر بھی سیر نہ ہوئے، اب وہ کہاں چلے گئے ؟کیا تم ان کودیکھ کریہ خیال کرتے ہو کہ وہ بڑی اچھی جگہ پر ہیں یا پھر وہ قید کر دئیے گئے ہیں کہ واپس نہیں لوٹیں گے۔کہاں ہیں وہ لوگ جنہیں دنیا نے دھوکے میں مبتلا رکھا؟ اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم! وہ محض شہوات کی و جہ سے ذلیل و رسوا ہوئے۔ کہاں ہیں وہ جن کی خاطر اسباب نے غفلت کے جال بُنے یہاں تک کہ وہ ان میں پھنس گئے؟ جب ان کے پاس پیاروں میں جدائی ڈالنے والا(موت کا فرشتہ) آیا تو وہ اس کی ہیبت سے لڑکھڑا کر عجزوانکساری کرنے لگے،لیکن پھر بھی اس نے ان کے درد والم کی کوئی پرواہ نہ کی اورانہیں ان کے اہل و عیال سے دُور کر دیا تو ان کے گھر والے اور دوست ان پر رونے لگے۔ افسوس ان پر کہ خو د تو زندگی پانے میں کامیاب ہو گئے لیکن ان کو ان کے اعمال کے ساتھ تنہا چھوڑ دیا اور انہیں بھلا دیا، سارے رشتے ناطے توڑڈالے تو مرنے والے نے حسرت کی زبان سے اپنے ان احباب کو پکارا: ''اے کاش! تم سن لو اور اس انسان پررحم کرو جو قبر میں دفن ہے، جس کے پاس نہ تو کوئی ایسا عمل ہے جو اس کی نجات کا باعث ہو اور نہ ہی کوئی غمگسار کہ اس کے غم کا مداوا کرے۔''
انہیں افسوس و ندامت کا جام گھونٹ گھونٹ کرکے پینا پڑا،کیڑوں نے ان کے اعضاء کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اب وہ دنیا میں واپس آنے کی تمنا کرتے ہیں تا کہ دن کو روزہ رکھیں اور رات بھر جاگ کر بارگاہ ِالٰہی عَزَّوَجَلَّ میں حاضر ہوں۔ ہائے، افسوس! وہ اپنے بوئے ہوئے اعمال کی کھیتی کاٹ رہے ہیں۔