Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
225 - 649
حیرت میں ڈال دیا کہ کس طرح ایک ہی غذا سے گرم طبیعت والے کو گرم اور سرد طبیعت والے کو ٹھنڈی غذا ملتی ہے۔اور ہر غذا اپنی مطلوبہ مقدار کے برابر ہی حاصل ہوتی ہے۔جبکہ پانی بھی ایک ہے اور غذا بھی ایک ہے۔اور اس تقسیم میں مختلف راز ہیں جنہیں دیکھنے والی نگاہیں نہیں دیکھ سکتیں ۔اللہُ حکیم عَزَّوَجَلَّ نے اپنی حکمت کے ساتھ عقل کے کانوں کو ندا فرمائی:
اِنَّا کُلَّ شَیۡءٍ خَلَقْنٰہُ بِقَدَرٍ ﴿۴۹﴾
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک ہم نے ہر چیز ایک اندازہ سے پیدا فرمائی۔''(پ۲۷،القمر:۴۹)

    ''ہر چیز'' سے مراد رزق ،مدتِ حیات ،سعادت و شقاوت اور قرب و بعدہیں۔ کاش! میں اس آیت مبارکہ کا حقیقی معنی جان لیتا؟ اور ان چیزوں سے چھٹکارا کیسے ممکن ہے ؟ اللہُ قادر عَزَّوَجَلَّ کی قدرت کی حکمت کا دامن خامیوں سے پاک ہے، ہلاکت کی انگلیاں اس کی بے نیازی میں تبدیلی نہیں کر سکتیں، کوئی اس کے کلمات کو بدلنے کی خواہش نہیں کر سکتا۔ انسانی عقل اس کی مشیئت کے اسرار کی حجت سمجھنے سے قاصر ہے اور اگر سمجھنے کی کوشش کرے تو جہالت کی تاریکی میں حیران ہو کر رہ جائے۔ اس نے لوحِ محفوظ کی لگام اپنی تقدیر کے ہاتھ میں دے دی۔اور تقدیر کے قلم کے ساتھ قضا لکھنے والے کو اپنے مقبول و مردود بندوں کے اسرارلکھنے کا حکم صادر فرمایا۔ وہ بے نیاز رب عَزَّوَجَلَّ بغیر کسی سبب کے اپنا قرب عطا فرما سکتاہے اوراپنی بارگاہ سے دور کر دیتا ہے اور اس نے اس بات کو اپنے اَزَلی فیصلے سے لکھ دیا ہے پس کبھی یہ فیصلہ ظاہر ہوجاتا ہے اور کبھی پوشیدہ رہتا ہے، وہ مٹاتا اور لکھتا ہے،منسوخ اور ثابت فرماتا ہے،دُور اور قریب کرتا ہے،ہدایت دیتا اور گمراہ کرتا ہے اورعزت وذلت دیتا ہے۔ 

    اور اس نے فہموں اور عقلوں کو ان رموز کے سمجھنے کا حکم دیا مگر عقلوں کی بصیرت ان کا ادراک کہاں کر سکتی ہے؟ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اے میرے اسلامی بھائی! اس کی بارگاہ میں کیسا حیلہ اور کونسا سبب؟ تقدیریں کیوں بنائی گئیں؟ اپنے اعمال سے نفع کس کو ہوا؟ اور کس نے اپنے اعمال سے نقصان اٹھایا؟ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے ظاہری نظامِ کائنات کے پردوں کے ساتھ دیکھنے والوں کی نگاہیں اسرارِ خداوندی کا مشاہدہ کرنے سے بند کر دِیں، اور طبائعِ انسانی شرعی پابندیوں کے خیموں کے ساتھ چھپا دی گئیں تو وہ ہمیشہ کے لئے رسول کی محتاج ہو گئیں۔

    میں اس ذاتِ وحدہ، لاشریک کی حمد کرتا، اس پر ایمان لاتا اوراسی پر توکُّل کرتا ہوں اورہر قوت وطاقت میں اس عاجز بندے کی طرح بری ہوں جواپنی نافرمانیوں کا معترف ہے اوراللہ تعالیٰ کی رحمت کا محتاج ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔وہ یکتا ہے اس کاکوئی شریک نہیں۔ وہ کمِّیت وکیفیت،سمت ، زمان و مکاں، جزء وکل، دائیں بائیں،اوپر نیچے اور آگے پیچھے کی صفات سے مُنَزَّہ ومُبَرَّہ ہے،کیو نکہ یہ تو فانی اجسام کی صفات ہیں اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت سیِّدُنا محمد مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اس کے خاص بندے اور رسول ہیں، وہ اولین و آخرین اور تمام مرسلین کے سردار ہیں، صدیقین کے سلطان، خاصانِ بارگاہِ الٰہیہ کے امام اور روشن و چمک دار پیشانی والوں کو ان ابدی نعمتوں میں لے جانے والے ہیں جن کے
Flag Counter