Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
224 - 649
بیان 21:                 مال کی مذمت
 ( اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ ۙ﴿1﴾حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ ؕ﴿2﴾
''ترجمہ کنزالایمان:تمہیں غافل رکھامال کی زیادہ طلبی نے یہاں تک کہ تم نے قبروں کامنہ دیکھا۔''(پ30، التکاثر)
مِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرِیۡدُ الدُّنْیَا وَمِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّرِیۡدُ الۡاٰخِرَۃَ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان:تم میں کوئی دنیاچاہتاتھااورتم میں کوئی آخرت چاہتا تھا۔''(پ۴،اٰل عمران:۱۵۲)

    اللہ عزَّوَجَلَّ نے عقل کو عجز کے نشے سے مدہوش کیا اور اس کے لئے حرکات و سکنات کی بساط پرپردۂ غیب کے پیچھے سے خیالات کے ایسے خاکے ظاہر کئے جن کا باطن مغلوب اور ظاہرغالب ہے ،پھر فکر کی زمین پر عقل کے پیروکار کو کھلا چھوڑ دیاتاکہ وہ ادراک کے شہر تک پہنچ جائے۔ لیکن اچانک تقدیر کے گھوڑے نے اس پرچڑھائی کر دی اور اس کو اس حد پر روک دیا جہاں تک عقل کی رسائی ہے،تو اس پیروکار نے جان لیا کہ اس کے ظاہری ذرائع حقیقت کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں۔

    اللہ تبارک وتعالیٰ نے عقل کو رفعت عطا فرمائی، آنکھوں کو بصارت سے نوازا اور انسان نے مراتب ِ افلاک میں فرشتوں کے درجات کا مشاہدہ کیا تو وہ ہیبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے سربسجود ہو گیا اور عظمتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ دیکھ کر کھڑ اہوگیا، قدرت کے ساتھ قائم ہو گیا، محبت میں دیوانہ ہو گیا اور احکامِ خداوندی کی بجا آوری کے لئے کمر بستہ ہو گیا۔

    اللہ عزَّوَجَلَّ نے مخلوق کو آئینۂ عبرت دِکھایا پس کائنات کی صورتیں عدم سے وجود میں آگئیں،تاکہ انسان اپنی کوتاہیوں پر نادِم ہو،اس سے باہم متضاد ومخالف طبیعتوں کے ذریعے دلائل قائم کرنے سے تخلیقِ خداوندی کے راز ظاہر ہوگئے پس ہم نے مشاہدہ کیا کہ حیوان میں حرارت و برودت کو یوں جمع کیا گیا ہے کہ حرارت ٹھنڈک سے نہیں بچاتی اور ٹھنڈک حرارت سے نہیں بچاتی۔ اللہ ُ قدیر عَزَّوَجَلَّ کی قدرت مقدورات میں بالکل ظاہر وباہر ہے ۔ ایک ہی غذا کے اجزاء کی تقسیم کاری نے عقل والوں کو
حمدِباری تعالیٰ
    سب خوبیاں اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے اپنی پختہ وحدانیت کے ثبوت پر ظاہری و باطنی موجودات کے دلائل کے ساتھ اپنی قدرتِ کاملہ کو دلیل بنایااور کائنات میں ہونے والی تبدیلیوں میں غوروفکر کرنے والے انسان کے لئے پُرحکمت دلائل اور مختلف اشیاء کے ایجاد و اختراع کو منہ بولتا ثبوت بنایا۔ قضاء کے قاصد نے تقدیر کے قلم سے تیزی سے گزرنے والے موجودات پر لکھ دیاہے کہ ان کے اسرار ورموز کو سوائے ارواحِ طیبہ کی زباں کے کوئی نہیں پڑھ سکتا۔ عقل مندوں کی آنکھوں کے لئے فہم وادراک کے ستارے جگمگائے تو انہوں نے قرآنِ حکیم میں جبَّار وقہَّارکے عجائب وغرائب کا مشاہدہ کیا۔ چنانچہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے :
Flag Counter