Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
217 - 649
رسول ہیں ۔ اللہ عزَّوَجَلَّ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلَّم پر اور آپ کے آل وا صحاب علیہم الرضوان پرسلامتی ورحمت نازل فرمائے جنہوں نے دینِ اسلام کی سربلندی کے لئے کوششیں کیں یہاں تک کہ اس کا پرچم تمام مذاہب سے بلند ہوکر سب پر غالب آ گیا۔

    اے میرے اسلامی بھائیو! گناہوں کااتنا بھاری بوجھ کب تک اٹھاتے پھروگے؟نافرمانیوں کے ذریعے کب تک رب ذوالجلال عَزَّوَجَلَّ کا مقابلہ کرو گے؟  کب تک خواہشات کی پیروی کرو گے حالانکہ یہ محض خیالات ہیں؟ کب تک ہمیشہ رہنے کی خواہش کرتے رہو گے حالانکہ موت کا وقت قریب آچکا ہے؟ کب تک خواہشات تمہیں سرکشی کی زنجیروں میں جکڑ ے رکھیں گی؟ حالانکہ کتنے ہی دوستوں نے تمہیں موت سے ڈرایا۔ کیاآج تم ان لوگوں کو دیکھتے ہوجن کے قلعوں کی مضبوطی ناقابل شکست تھی ؟ اب کہاں ہیں مال جمع کرنے والے اور گِن گِن کر رکھنے والے؟ باغات کو آباد کرنے والے کہاں چلے گئے؟ لشکروں کی قیادت کرنے والے کہاں گئے؟ اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم! لذتوں کو ختم کرنے والی (موت) تیرے اختیار کے بغیر اچانک آجائے گی اور گھر والوں کوگھر سے زبردستی نکال دے گی، ایک گھڑی کی مہلت نہ ملے گی، اُمیدوں کو کاٹ دے گی،تیرے اور تیرے معاون ومددگار کے درمیان حائل ہوجائے گی۔ہائے افسوس اس وقت پر! جب احباب نفع نہیں ديں گے، آہ وبکا کرنے والوں کی کوئی پرواہ نہ کریگا۔جب تقدیر کافیصلہ ہوجائے گاتواب عتابِ نفس کیانفع دے گا؟ اے امیدوں سے دھوکا کھانے والے!کتنے ہی لوگ امیدوں سے محروم ہوئے؟ کتنے مطلوب آرام کر رہے ہیں لیکن طالب کو نیند نہیں آتی۔ہاں! ہاں! عنقریب لحد کی تاریکی میں تجھے اپنے کاموں کا انجام اور اپنے نامۂ اعمال سے امید معلوم ہوجائے گی، اس کے بعد حساب لینے والے کے سامنے کھڑے ہونے کی ہولناکی وغیرہ تمام معاملات تیری سمجھ میں آجائیں گے اور ہر خوش فہم پر اس کی جھوٹی امید ظاہر ہوجائے گی۔اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم!اس وقت تمام راستے تنگ ہو جائیں گے ۔محرومی ، حسرت اور مصائب کا سامنا ہوگا۔اللہ عزَّوَجَلَّ تم پر رحم فرمائے!اپنی بقیہ فانی زندگی کو غنیمت جانو۔ اللہ عزَّوَجَلَّ کی قسم!عنقریب جب اہلِ تقوی کو کامیابی کاتاج پہنایاجائے گا تو سخت دل والے پشیمان ہوں گے :
وَ خَسِرَ ہُنَالِکَ الْمُبْطِلُوۡنَ ﴿٪۷۸﴾
ترجمۂ کنزالایمان :اور باطل والوں کا وہاں خسارہ۔ (پ۲۴،المؤمن:۷۸)''اللہ عزَّوَجَلَّ اپنے محبوب صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کوحکم فرماتا ہے:
(1) وَ اَنۡذِرْہُمْ یَوْمَ الْحَسْرَۃِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ ۘ وَ ہُمْ فِیۡ غَفْلَۃٍ وَّ ہُمْ لَا یُؤْمِنُوۡنَ ﴿39﴾
ترجمۂ کنزالایمان :اور انہیں ڈرسناؤ پچھتاوے کے دن کا،جب کام ہو چکے گااور وہ غفلت میں ہیں،اور وہ نہیں مانتے۔(۱)(پ16، مریم:39)
1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''حدیث شریف میں ہے کہ جب کافر منازلِ جنت دیکھیں گے جن سے وہ محروم کئے گئے، تو انہیں ندامت و حسرت ہوگی کہ کاش! وہ دُنیا میں ایمان لے آئے ہوتے ، اورجنَّت والے جنَّت میں اور دوزخ والے دوزخ میں پہنچیں گے ۔ایسا سخت دن درپیش ہے، اور اس دن کے لئے کچھ فکر نہیں کرتے۔''
Flag Counter