Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
218 - 649
''اِنْذَارْ''
 کا مطلب ہے، ڈرسنانا اور
'' یَوْمَ الْحَسْرَۃِ''
سے مراد قیامت کا دن ہے جس دن گنہگار نیکی نہ ہونے کی وجہ سے حسرت زدہ ہو گااور نیکیوں میں سستی کرنے والا نیک اعمال میں کمی کی وجہ سے حسرت زدہ ہوگا۔ اور
''قُضِیَ الْاَمْرُ''
 سے مرادیہ ہے کہ جب حساب سے فراغت ہوگی اہلِ جنت کو جنت میں داخل کر دیا جائے گااور مستحقِ نار کو جہنم میں۔
 ''وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ ''
یہ خطاب دنیا میں ہے اور
''وَھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ''
یہ آخرت میں خطاب ہے یعنی ان کو دوبارہ نہیں بھیجا جائے گاکہ وہ ایمان لائیں۔
قیامت کامنظر:
    حضرت سیِّدُنا عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ ٌعَنِ الْعُیوب عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کافرمانِ عبرت نشان ہے:''قیامت کے دن کچھ لوگوں کو جنت کی طرف بلایاجائے گا یہاں تک کہ جب وہ قریب پہنچیں گے اور اس کی خوشبو سونگھيں گے اور اس کے محلات دیکھیں گے تو ندا کی جائے گی: ''ان لوگوں کو جنت سے لوٹا دو، ان کے لئے جنت میں کوئی حصہ نہیں۔'' تو وہ ایسی حسرت کے ساتھ لوٹیں گے کہ اس جیسی حسرت سے اگلوں پچھلوں میں سے کوئی نہ لوٹا ہو گا تو وہ عرض کریں گے: ''اے ہمارے رب عَزَّوَجَلَّ! اگر تو یہ دکھانے سے قبل ہی جہنم میں داخل کر دیتاتو ہم پر آسان تھا۔'' اللہ عزَّوَجَلَّ فرمائے گا: ''میں نے یہ اس لئے کیاکیونکہ تم خلوت میں نافرمانیوں سے میرامقابلہ کیا کرتے تھے اورجب تم لوگوں سے ملتے تو لوگوں کو دکھانے کے لئے بڑی عاجزی سے ملاقات کرتے اور جو تمہارے دلوں میں میرے لئے تھا وہ اس کے برعکس تھا۔تم لوگوں سے ڈرتے اور مجھ سے نہ ڈرتے ، لوگوں کی تعظیم کرتے اور میری تعظیم نہ کرتے۔ تو آج میں تمہیں اپنا درد ناک عذاب چکھاؤں گامزید یہ کہ میں نے تم پرآخرت کا ثواب حرام کر دیا ہے۔''
(المعجم الکبیر، الحدیث۱۹۹/۲00، ج۱۵/۱۷، ص۸۵۔۸۶۔بتغیرٍقلیلٍ)
عذابِ جہنم کی کیفیت :
    حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: ''جب جہنم میں ہمیشہ رہنے والے باقی رہ جائیں گے تو انہیں تابوتوں میں رکھا جائے گاپھر ان تابوتوں کو دوسرے تابوتوں میں رکھا جائے گا۔ کوئی شخص بھی یہ گمان نہ کریگاکہ ميرے علاوہ بھی کسی کو عذاب دیا جا رہا ہے اور قیامت کے دن ہر شخص اس انتظار میں ہو گاکہ آیا اس کا ٹھکانہ جنت ہو گا یا جہنم؟'' جہنمیوں سے کہا جائے گا: ''اگر تم عمل کرتے(تو عذاب کے حق دار نہ ہوتے)۔''اور جنتیوں سے کہاجائے گا:''اگر تم پر اللہ عزَّوَجَلَّ کا فضل وکرم نہ ہوتا(تو جہنم کا ایندھن بنتے)۔''
(المعجم الکبیر،الحدیث۹0۸۷۔۹۷۶۱،ج۹،ص۲۲۴۔۳۵۴،بتغیرٍقلیلٍ)
Flag Counter