Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
204 - 649
اس کا پیچھا نہیں کر رہے؟ کیاتوان لوگوں کو نہیں دیکھتا جن کی عمریں ہزار سال تھیں؟ جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے یہی جواب دیا کہ ہم توکچھ دن ہی اس دار فانی میں ٹھہرے تھے۔ کیا تو ان لوگوں سے ناواقف ہے جنہوں نے مضبوط قلعے بنائے اور بڑے بڑے سرداروں کو حفاظت میں رکھا، انہیں آباد کرنے والوں کو موت کی تلوار نے تباہ و برباد کر دیا اور سب کچھ ان کی ملکیت سے زائل ہوگیا؟ قومِ نوح،قومِ عادوثمود اورقومِ تُبَّع اورپہلے والے بادشاہ کہاں ہیں؟کہاں ہیں وہ لوگ جو کبھی مشرق ومغرب کے مالک تھے؟ وہ سب رخصت ہو گئے اوران کا سب کچھ بیکار ہو گیا اور وہ خود اس اندھیرے گھرمیں منتقل ہو گئے، جس میں شاہ وگدا سب برابر ہیں۔ کیا تو ان کی پکار نہیں سنتاحالانکہ وہ خاموش معلوم ہوتے ہیں؟ اے عقلمند! کیا تو ان سے نصیحت حاصل نہیں کرتا؟ شداد اور نعمان کہاں چلے گئے؟ بادشاہِ ایران اور اس کے محلات کہاں گئے؟ بابل کے بادشاہوں کو کس نے گمنام کر دیا ؟ موت نے ان سب کا کام تمام کر دیا:
''یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوۡہٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوۡہٌ ۚ
ترجمۂ کنزالایمان : جس دن کچھ منہ اونجالے (روشن)ہوں گے اور کچھ منہ کالے۔''(پ۴،اٰل عمران: ۱0۶)
بھیڑیوں اور بکریوں میں صلح:
    حضرت سیِّدُنا عبدا لواحد بن زید رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ'' میں تین روزرات کے وقت اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں یہی التجا کرتا رہا کہ وہ مجھے جنت میں میرا رفیق دکھادے تو میں نے دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے:'' اے عبدا لواحد! جنت میں تیری رفیق میمونہ سوداء ہو گی۔''میں نے دریافت کیا :''وہ کہاں رہتی ہے؟'' تومجھے بتایاگیاکہ وہ کوفہ کے فلاں قبیلے میں رہتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ پھر میں کوفہ چل پڑا۔ اس کے متعلق لوگوں سے دریافت کرنے پرانہوں نے مجھے بتایا کہ ''وہ تو دیوانی ہے اور ہماری بکریاں چراتی ہے۔'' میں نے ان سے کہا:''میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں۔'' تولوگو ں نے کہا: ''آپ پہاڑکی طرف جائیں۔' ' میں نے وہاں جاکر دیکھا کہ وہ اپنے سامنے ڈنڈا نصب کئے نماز میں کھڑی ہے ، اس پر اُون کا جبہ لٹک رہا تھا جس پر لکھا تھا: ''یہ خرید وفروخت کے لئے نہیں۔'' اور یہ بھی دیکھا کہ بکریاں بھیڑیوں کے ساتھ مل کرچر رہی ہیں۔ نہ توبھیڑیئے ان کو کھاتے ہیں اور نہ ہی یہ بھیڑیوں سے ڈرتی ہیں۔ جب اس نے مجھے دیکھا تو نمازمختصرکرکے کہا :''لوٹ جائیں، اے ابن زید! آپ واپس چلے جائیں، وعدے کی جگہ یہاں نہیں بلکہ وعدے کی جگہ توجنت ہے۔'' میں نے کہا: ''اللہ عزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے! آپ کو کس نے بتایا کہ میں ابن زیدہوں ؟'' تو اس نے جواب دیتے ہوئے کہا: ''آپ کو معلوم نہیں کہ روحیں ایک اکٹھالشکرتھیں جوایک دوسرے سے متعارف ہوگئیں وہ باہم محبت کرتی ہیں اورجنہوں نے ایک دوسرے کونہ پہچانا وہ الگ رہتی ہیں۔'' پھر میں نے اس سے کہا:''مجھے نصیحت کرو؟''تواس نے کہا:''تعجب ہے! نصیحت کرنے والے کوبھی بھلا نصیحت کی جائے گی۔ بہرحال اے ابن
Flag Counter