زید!اگر تم اپنے اعضاء پر عدل کی کَسَوٹی نافذکر لو تو میں تمہیں اپنے اعضاء میں چھپے ہوئے ایک راز سے آگاہ کرتی ہوں، اے ابن زید! مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ جس بندے کو دنیا کی کوئی شئے عطا کی گئی پھر اس کو دوسری مرتبہ اس نے طلب کیا تو اللہ عزَّوَجَلَّ اِس کے ساتھ ہی خلوت کی محبت اس سے سلَب کر لیتا ہے اور اس کو قرب کے بدلے جدائی اور اُنس کے بدلے وحشت دے دیتا ہے۔'' پھر اس نے چند اشعار کہے، جن کا مفہوم یہ ہے:
''اے واعظ! تو خود نافرمان ہے اور لوگوں کو گناہوں سے روکتا اور ڈانٹتا ہے۔ حقیقت میں تو ہی بیمار و کمزور ہے کہ گناہوں کو ناپسند کرنے والے سے ان کاوقوع بڑا ہی عجیب ہے۔ اے میرے رفیق! اگرتو نے جلد ہی اپنے ان عیوب سے داغدار ہونے سے پہلے پہلے توبہ کرلی اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے صلح کر لی تو جان لے کہ تو جو بھی کہے گااس کا مقام ومرتبہ دلوں میں سچا ہو گا۔ لیکن اس وقت تیری حالت یہ ہے کہ تو دوسروں کو توگمراہی وسرکشی سے منع کرتاہے اور خود منع کرنے میں شک میں مبتلا ہے۔''
اشعار کہنے کے بعدجب وہ خاموش ہوئی تومیں نے اس سے استفسار کیا: ''میں ان بھیڑیوں کو بکریوں کے ساتھ دیکھ رہا ہوں کہ نہ بکریاں بھیڑیوں سے ڈرتی ہیں اور نہ ہی بھیڑیئے بکریوں کوکھاتے ہیں۔''تو اس نے کہا:''میں نے اپنے اور اپنے مالک کے درمیان رکاوٹ کو دور کرکے اس سے صلح کر لی تو اس نے بھی بھیڑیوں اور بکریوں کے درمیان رکاوٹ دور کرکے ان کی صلح کروا دی۔''
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ صادقین کی علامات،مؤمنین کے فضائل وعادات،متقین کے آثار اوربزرگوں کے لگائے ہوئے باغات ہیں۔اے وہ شخص جو نافرمانیوں کی راہ میں حیران کھڑا ہے! جان لے کہ نیکی کا راستہ بھی بہت قریب ہے اوراے وہ شخص جس کوگناہوں نے توبہ سے روک رکھاہے! جلدی سے ہمیشہ کے لئے توبہ کرلے۔ اے وہ شخص جو مسلسل نافرمانیوں میں غرق ہوتا جا رہا ہے! لوٹ آاورجس نے تجھے اپنی طرف بلایا ہے وہ تیری پکارسن کرتجھے جواب سے نوازے گا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! گویا تم امیدوں کے کاٹنے والی موت کے بہت قریب ہو،وہ آئے گی توتم کیڑوں اور تاریکی کے گھروں کی طرف منتقل ہو جاؤ گے،وہ تمہیں دوستوں کی محفل سے اُچک لے گی پھرنافرمان کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گالیکن افسوس! اس وقت اسے اعمال سے خالی عمر ضائع کرنے پر ندامت نفع نہ دے گی۔