Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
203 - 649
    وہ نہ جسم ہے، نہ جوہر، نہ عرض، نہ عُنصر۔ وہ نورانی پردے سے پاک ہے۔ اسے فارغ سمجھنے والا اندھا ہے، اس کا انکار کرنے والا بے بصیرت ہے، اُس کے لئے جسم ثابت کرنے والا کمزور نظر والا ہے اور کسی کو اس کے مشابہ قرار دینے والا جہالت کی جیل میں قید ہے۔ اس نے بادلوں سے زور کا پانی برسایا اور اس کے ذریعے بہت سی اکٹھی اور بکھری ہوئی نباتات کو پیدا فرمایااوران کی غذائیں بنائیں اور حیوانات سے مذکر ومؤنث پیدا کرنے کے لئے پانی سے مادۂ منویہ بنایاتاکہ اس میں اس کا فضل اور عدل ظاہر ہو اور پیدا ہونے والی مخلوق تو عاجز ومجبور ہے۔ اس نے اِبتدائے آفرینش(آف ۔ری۔نِش۔پیدائش)سے لوحِ محفوظ میں انسان کی نجات وہلاکت کے کلمات لکھ دیئے۔پس سب کے ساتھ وہ معاملہ ہو گا جو وہ اپنے اندازے سے نہيں جان سکتے اور امو ر کا انجام ان سے مخفی کر دیا گیا۔پھر موت کا تیر ان کی طرف پھینکا تو اس نے انہیں ہلاک کردیاپھر اپنے اس فرمان سے اسے نصیحت کی تاکہ وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فیصلے میں عدل کرنے والا ہے اور وہ ظلم نہیں کرتا:
''کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوۡرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ؕ فَمَنۡ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَازَ ؕ وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوۡرِ ﴿۱۸۵﴾
ترجمۂ کنزالایمان :ہر جان کو موت چکھنی ہے اور تمہارے بدلے تو قیامت ہی کو پورے ملیں گے جو آگ سے بچاکر جنت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچا اور دنیا کی زندگی تو یہی دھوکے کا مال ہے۔(پ۴،اٰل عمران : ۱۸۵)''(۱)

    پاک ہے وہ رب عَزَّوَجَلَّ جو فیصلہ کرتا ہے لیکن اس پر فیصلہ نہیں کیا جاتا،جو صحیح کو توڑتا اور ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے، میں اس کی رحمت کی امید رکھنے والے جیسی حمد کرتا ہوں کیونکہ وہ اسے غفور و رحیم جانتا ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ عزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ،وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں،میں نے یہ گواہی روزِ محشر کے لئے تیار کررکھی ہے ا ور میں گواہی دیتاہوں کہ حضرت سیدنا محمد مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اللہ عزَّوَجَلَّ کے خاص بندے اور رسول ہیں، آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم قیامت کے دن تمام امتوں کی شفاعت فرمائیں گے۔ 

    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! فانی شئے کا طالب خسارے میں ہے کیونکہ عنقریب وہ اسے چھوڑ کر رخصت ہو جائے گا۔ کیا وہ شخص آنے والے لمحات میں غور نہیں کرتا کہ وہ اس کی عمر کے مختلف مراحل کو لپیٹ رہے ہیں؟ کیا دن اور رات آنکھیں پھاڑے
1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''دنیا کی حقیقت اس مبارک جملہ نے بے حجاب کردی۔ آدمی زندگانی پرمفتوں(یعنی فریفتہ ، شیدا) ہوتا ہے۔ اسی کو سرمایہ سمجھتا ہے اور اس فرصت کو بے کار ضائع کردیتا ہے۔ وقت اخیر اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بقانہ تھی ۔اس کے ساتھ دل لگانا حیاتِ باقی اور اُخروی زندگی کے لئے سخت مضرت رساں ہوا۔ حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا کہ ''دنیا طالبِ دنیا کے لئے متاع غرور اور دھوکے کا سرمایہ ہے۔ لیکن آخرت کے طلب گار کے لئے دولت باقی کے حصول کا ذریعہ اور نفع دینے والا سرمایہ ہے۔''
Flag Counter