| حکایتیں اور نصیحتیں |
اللہ عزَّوَجَلَّ نے اس پر شہوت مسلَّط کی تاکہ اسے اپنا انتہائی ذلیل ہونا معلوم ہو جائے۔ نافرمانوں کی آنکھوں سے عبرت کے آنسو خشک ہو گئے پھر بھی اُن کا کوئی مدد گار نہیں لیکن اس کے دروازے پر پہنچنے والے محبوب بندوں کو ان کا محبوبِ حقیقی یہ ندا دیتاہے:
وَسَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۳۳﴾ۙ
ترجمۂ کنز الایمان: اور دوڑو اپنے رب کی بخشش اور ایسی جنت کی طرف جس کی چوڑان میں سب آسمان وزمین آجائیں،پرہیز گاروں کے لئے تیار رکھی ہے۔''(پ۴،اٰل عمران: ۱۳۳)''(۱)
سب خوبیاں اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس کو حوادثاتِ زمانہ نہیں بدل سکتے، اور نہ ہی زمانوں کی تبدیلی اس کو پرانا کرسکتی ہے، وہی اول وآخر اور ظاہر وباطن ہے:''یَعْلَمُ خَآئِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوۡرُ ﴿۱۹﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اللہ جانتا ہے چوری چھپے کی نگاہ اور جوکچھ سینوں میں چھپا ہے۔''(پ۲۴،المؤمن: ۱۹)
بقیہ حاشیہ ۔۔۔۔۔۔ کے تحت فرماتے ہیں: ''شانِ نزول: یہ آیت عاص بن وائل یا ابوجہل اور بقولِ مشہور اُبَیْ بن خلف حُمَجِی کے حق میں نازل ہوئی جو انکارِ بعث میں یعنی مرنے کے بعد اٹھنے کے انکار میں سیّد عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلَّم سے بحث و تکرار کرنے آیا تھا، اس کے ہاتھ میں ایک گلی ہوئی ہڈی تھی، اس کو توڑتا جاتا تھااور سیّد عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلَّم سے کہتا جاتا تھا کہ کیا آپ کا خیال ہے کہ اس ہڈی کو گل جانے اوریزہ ریزہ ہوجانے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ زندہ کریگا ؟ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا : ہاں، اور تجھے بھی مرنے کے بعد اٹھائے گا اور جہنم میں داخل فرمائے گا۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور اس کے جہل کا اظہار فرمایا گیا کہ ''گلی ہوئی ہڈی کا بکھرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی قدرت سے زندگی قبول کرنا، اپنی نادانی سے ناممکن سمجھتا ہے ۔کتنا احمق ہے اپنے آپ کو نہیں دیکھتا کہ ابتدا میں ایک گندہ نطفہ تھا، گلی ہوئی ہڈی سے بھی حقیرتَر۔ اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ نے اس میں جان ڈال دی، انسان بنایا تو ایسا مغرور و متکبر انسان ہوا کہ اس کی قدرت ہی کا منکر ہو کر جھگڑنے آگیا۔ اتنا نہیں دیکھتا کہ جو قادرِ برحق پانی کی بوند کو قوِّی اور توانا انسان بنادیتا ہے، اس کی قدرت سے گلی ہوئی ہڈی کو دوبارہ زندگی بخش دینا کیا بعید ہے اور اس کو ناممکن سمجھنا کتنی کھلی ہوئی جہالت ہے ۔'' 1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''توبہ و ادائے فرائض و طاعات و اخلاصِ عمل اختیار کرکے۔ یہ جنَّت کی وُسعت کا بیان ہے اس طرح کہ لوگ سمجھ سکیں۔کیونکہ اُنہوں نے سب سے وسیع چیز جو دیکھی ہے وہ آسمان و زمین ہی ہے۔ اس سے وہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اگر آسمان و زمین کے طقبے طقبے اور پرت پرت بنا کر جوڑ دیئے جائیں اور سب کا ایک پرت کر دیا جائے اس سے جنّت کے عرض کا اندازہ ہوتا ہے کہ جنّت کتنی وسیع ہے۔ ہر قل بادشاہ نے سید عالم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کی خدمت میں لکھا کہ جب جنَّت کی یہ وسعت ہے کہ آسمان و زمین اس میں آجائیں تو پھر دوزخ کہاں ہے۔ حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم نے جواب میں فرمایا کہ'' سُبحانَ اللہ ! جب دن آتا ہے تو رات کہاں ہوتی ہے۔ اس کلام بلاغت نظام کے معنی نہایت دقیق ہیں۔ ظاہر پہلو یہ ہے کہ دورۂ فلکی سے ایک جانب میں دن حاصل ہوتا ہے تو اس کے جانب ِمقابل میں شب ہوتی ہے۔ اسی طرح جنت جانب ِ بالا میں ہے اور دوزخ جہت پستی میں۔یہود نے یہی سوال حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کیا تھا تو آپ نے بھی یہی جواب دیا تھا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ توریت میں بھی اسی طرح سمجھایا گیا ہے۔معنی یہ ہیں کہ اللہ کی قدرت و اختیار سے کچھ بعید نہیں، جس شے کو جہاں چاہے رکھے۔ یہ انسان کی تنگئ نظر ہے کہ کسی چیز کی وسعت سے حیران ہوتا ہے تو پوچھنے لگتا ہے کہ ایسی بڑی چیز کہاں سمائے گی حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے دریافت کیا گیا کہ جنّت آسمان میں ہے یا زمین میں۔ فرمایا: کون سی زمین اور کون سا آسمان ہے جس میں جنت سما سکے۔ عرض کیا گیا پھر کہاں ہے؟ فرمایا: آسمانوں کے اوپر زیرِ عرش۔ اس آیت اور اس سے اوپر کی آیت ''وَاتَّقُوالنَّارَالَّتِیْ اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیْنَ'' سے ثابت ہوا کہ جنّت و دوزخ پیدا ہوچکیں موجود ہیں ۔ ''