Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
201 - 649
بیان18:                قیامت کی سختیاں
یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوۡہٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوۡہٌ
''ترجمۂ کنزالایمان : جس دن کچھ منہ اونجالے (روشن)ہوں گے اور کچھ منہ کالے۔''(پ4، اٰل عمران: 106)
حمد ِباری تعالیٰ:
    تمام خوبیاں اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے اپنے اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کو صفتِ جمال کی معرفت عطا فرمائی تو انہوں نے عرفانِ خدوندی کی لازوال دولت حاصل کرلی، ا س کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ان کی رہنمائی فرمائی اور انہیں اُنسیَّت عطا فرمائی تو وہ اس سے مانوس ہو گئے، ان کے دلوں میں اپنے راز ڈالے تو اس کی توفیق سے وہ اس کا ذکر کرنے لگے۔ اللہ عزَّوَجَلَّ ان کے احوال بیان کرکے ملائکہ کے سامنے فخر فرماتا ہے اور ایسا کیوں نہ ہوجبکہ اللہ عزَّوَجَلَّ ان سے محبت کرتا ہے اوروہ اللہ عزَّوَجَلَّ سے محبت کرتے ہیں۔اس نے ان کے دلوں کی سلطنت غفلت سے محفوظ فرمائی تو انہوں نے اس کی بارگاہ کو لازم پکڑ لیا اور اپنی ساری زندگی اخلاص کو اپنایا اور اسی پردُنیا سے رخصت ہوئے۔ انہوں نے اپنے نامہ اعمال کو نافرمانیوں سے خالی رکھا اور اسے صحیح رکھنے کی پوری کوشش کی۔ وہ روزِ جزاء کی رسوائی سے خوفزدہ ہوئے تو انہوں نے اس امانت کی حفاظت کی جو اُن کے سپرد کی گئی تھی۔ انہوں نے اپنے محبوب ِحقیقی عَزَّوَجَلَّ سے اپنا مقصود بھی پایا اور طلب سے بھی سوا پایا۔ مگر محروم کو بد نصیبی کے میدان میں چھوڑ دیا جائے گا، اس پر رحم نہ کیا جائے گا، اسے میدانِ محشر میں شرمساری ہو گی اور اُسے اس دن ذلت کا لباس پہنایا جائے گاجس دن کچھ منہ روشن اور کچھ سیاہ ہوں گے۔

     تمام خوبیاں اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے کائنات کو بغیر کسی شریک ومددگارکے پیدا کیا، وہ اپنی بلند شان میں اس سے پاک ہے کہ اسے طاقت وقدرت اور وجود دیا جائے۔اس نے اپنی شان کے مطابق عرش پراستوا فرمایا۔ وہ استغفار کرنے والوں کے لئے آسمان پر نزول فرماتا ہے۔ وہ بروزِ قیامت سب زمینوں کو سمیٹ دے گا اور اس کے حکم سے سب آسمان لپیٹ دیئے جائیں گے، وہ فرماتا ہے:
''الَّذِیۡۤ اَحْسَنَ کُلَّ شَیۡءٍ خَلَقَہٗ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنۡسَانِ مِنۡ طِیۡنٍ ۚ﴿۷﴾
ترجمۂ کنزالایمان : جس نے جو چیز بنائی خوب بنائی اور پیدائشِ انسان کی ابتدا ء مٹی سے فرمائی ۔''(پ۲۱،السجدۃ:۷)                                                                      اس نے انسان کوایک حقیر نُطفے سے پیدا کیا اور اسے پُوری دنیا میں پھیلا دیا۔ اللہ تعالیٰ انسان کے متعلق فرماتا ہے:
'' فَاِذَا ہُوَ خَصِیۡمٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷۷﴾
ترجمۂ کنزالایمان :جبھی وہ صریح جھگڑالو ہے۔''(۱)(پ۲۳،یٰسۤ: ۷۷)
1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ۔۔۔۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر
Flag Counter