کہتے ہوئے کہا: ''میں اسکندریہ جارہاہوں۔''میں بھی اس کے ساتھ نکل پڑا اور اس کو کچھ درہم دیئے لیکن اس نے لینے سے انکار کر دیا۔جب میں نے ا س کو مجبور کیا تو اس نے اپنے مشکیزے میں مٹھی بھر ریت ڈال کر اوپر سے سمندر کا پانی ڈال دیا پھر مجھے کہا: ''کھاؤ۔''میں نے دیکھا تو یہ انتہائی لذیذاورمیٹھے ستوتھے۔'' اس نے کہا: ''جس کی حالت ایسی ہو اسے درہموں کی کیا ضرورت ہے؟'' پھر اس نے چند اشعار کہے، جن کا مفہوم یہ ہے:
''دل میں کوئی جگہ ایسی نہیں جومحبوب کے علاوہ کسی کی محبت کے لئے خالی ہو۔میرا سوال اور اُمید ومرادسب وہی میرا حبیب ہے۔ جب تک میں زندہ ہوں میری زندگی اسی کے لئے ہے۔ جب کبھی کوئی بیماری میرے دل پر اُتری تو اس کے علاوہ اس بیماری کا علاج کسی نے نہ کیا۔''
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! جب ایک قوم پر عنایتِ باری تعالیٰ کی ہوا چلی تواس نے ان کے جہالت وغفلت سے مرے ہوئے دلوں کو زندہ کر دیا۔ ان کو توفیق کے پیالے میں پاکیزہ شراب سے سیراب کیا توان کی ارواح میں خوشی و مسرت کے آثار نمودار ہوگئے اوروجد وراحت کا اثر چمک اٹھا۔انہوں نے دنیا کو نگاہِ عبرت سے دیکھا تو اس حقیقت کو پا لیا کہ یہاں کوئی حقیقی گھر نہیں اور انہوں نے دولت و اقتدار کی بجائے آخرت کی تیاری میں جلدی کرنے کو غنیمت جانا۔ ان کے دن روزے میں اور راتیں ذکر واذکار میں گزریں۔ جب غافل نیندسے لطف اندوزہو رہے ہوتے تو وہ مولیٰ کریم عَزَّوَجَلَّ سے مناجات میں مشغول رہتے۔ محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ نے ان کو اپنی رضاعطاکی توانہوں نے اس کی محبت کو ہر شئے پر ترجیح دی۔ اس نے ان کو محبت کے پیالے سے سیراب کرکے رات کی تنہائی میں ان پر تجلِّی فرمائی تو وہ اس کے مشاہدہ اور دیدار سے لطف اندوز ہوئے۔ پھر محبوب نے ان کو ندا دی: ''اے میرے محبوب بندو! میرے دروازے پر آجاؤ، میں نے تمہارے لئے حجاب اٹھا کرجنت کے دروازے کھول دیئے ہیں اورتم میں سے ہر ایک کو اس کی من مانتی مرادیں عطاکردی ہیں۔