Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
188 - 649
    پھرسیِّدُ الْمُبَلِّغِیْنَ،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی:
 (3)  وَ مَنۡ یُّشْرِکْ بِاللہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیۡرُ اَوْ تَہۡوِیۡ بِہِ الرِّیۡحُ فِیۡ مَکَانٍ سَحِیۡقٍ
ترجمۂ کنزالایمان :اور جواللہ کا شریک کرے وہ گویا گرا آسمان سے کہ پرندے اسے اچک لے جاتے ہیں ۔یا ہوا اُسے کسی دور جگہ پھینکتی ہے۔ (۱) (پ17،الحج:31)

    پھر اس کی روح جسم میں لوٹا دی جاتی ہے اور دو فرشتے اس کے پاس آکر بیٹھ جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں:
''مَنْ رَبُّکَ
یعنی تیرا رب کون ہے؟''وہ کہتاہے :
''ھَا ھَا لَا اَدْرِی
یعنی ہائے افسوس!مجھے نہیں معلوم۔''پھر وہ پوچھتے ہیں:
''مَا دِیْنُکَ
یعنی تیرا دین کیا ہے؟''وہ جواب دیتا ہے:
''ھَا ھَا لَا اَدْرِی
یعنی ہائے افسوس!میں نہیں جانتا۔'' پھر وہ پوچھتے ہیں:
'' مَا تَقُولُ فِیْ ھٰذَا الرَّجُلِ الَّذِیْ بُعِثَ فِیْکُمْ
یعنی دنیامیں اس شخصیت کے متعلق کیا کہا کرتا تھاجو تم میں مبعوث ہوئی؟''تووہ جواب میں کہتا ہے :
''ھَا ھَا لَا اَدْرِی
یعنی ہائے افسوس ! میں کچھ نہیں جانتا۔''پھرآسمان سے ایک اعلان کرنے والااعلان کرتا ہے:'' اس نے جھوٹ بولا، اس کے لئے آگ کا بچھونا بچھاؤ اور آگ کا لباس پہناکرجہنم کا دروازہ کھول دو۔''پس جہنم کی سخت گرمی اسے آپہنچتی ہے،اس پر قبرتنگ ہوجاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں بِکھرجاتی ہیں پھراس کے پاس ایک بدصورت ، گندے کپڑوں اور انتہائی ناگوار بو والا شخص آکر کہتاہے :''میں تجھے ایسی خبر دیتاہوں جو تجھے غمگین کر دے گی،جان لو! یہ وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔'' تو وہ اس سے پوچھتا ہے: ''تو کون ہے؟'' وہ جواب دیتے ہوئے کہتا ہے:''میں تیرادنیامیں کیا ہوا خبیث عمل ہوں۔'' تووہ مردہ کہتا ہے: ''اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ !قیامت قائم نہ کر۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل،حدیث البراء بن عازب،الحدیث۱۸۵۵۹،ج۶،ص۴۱۳،بتغیرٍقلیلٍ)
موت کے بعد بھی ستر ہولناکیاں ہیں:
    سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار باذنِ پروردگارعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ''موت کی سختیاں تلوار کی ہزارضربوں سے بھی زیادہ شدیدہیں اور بے شک اس کے بعدبھی ستر ہولناکیاں ہیں جن میں سے ہر ایک موت سے سترگنا زیادہ سخت ہے۔''
 (حلیۃ الاولیاء،عبد العزیزبن ابی رواد،الحدیث۱۱۹۳۴،ج۸،ص۲۱۸مختصرًا)
1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں:'' اور (پرندے)بوٹی بوٹی کرکے کھا جاتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ شرک کرنے والا اپنی جان کو بدترین ہلاکت میں ڈالتا ہے۔ ایمان کو بلندی میں آسمان سے تشبیہ دی گئی ۔اور ایمان ترک کرنے والے کو آسمان سے گرنے والے کے ساتھ، اور اس کی خوا ہشاتِ نفسانیہ کو جو اس کی فکروں کو منتشر کرتی ہیں بوٹی بوٹی لے جانے والے پرندے کے ساتھ، اور شیاطین کوجو اس کووادئ ضلالت میں پھینکتے ہیں ہوا کے ساتھ تشبیہ دی گئی اور اس نفیس تشبیہ سے شرک کا انجامِ بد سمجھایا گیا۔''
Flag Counter