Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
189 - 649
    حضرت سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمۃاللہ القوی فرماتے ہیں: '' میں نے ایک رات قبراور موت کے متعلق خوب غورو فکر کیا تو اسی رات میں نے خواب دیکھا گویا میں قبر ستان میں ہوں اور مردے اپنی قبروں میں اس حال میں ہیں کہ ان کے بستربچھے ہوئے ہیں اور ان کی بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی ہے۔''میں نے پوچھا:'' یہ کون ہیں؟''مجھے بتایاگیا: ''یہ فرمانبردار ہیں جو قیامت تک اللہ عزَّوَجَلَّ کے خاص فضل وکرم میں رہیں گے۔''میں نے پوچھا:''نافرمان کہاں ہیں؟'' تو بتایاگیا: '' زمین نے انہیں وحشت کی تاریکیوں میں دھنسادیا اب نہ تو وہ دیکھ سکتے ہیں، نہ ہی دکھائے جائیں گے۔ نیک اور بدکاردونوں میں فرق یہ ہے کہ ایک کے لئے دنیا قید خانہ اورقبر آزادی ہے اوردوسرے کے لئے دنیاآزادی اور قبرقیدخانہ ہے۔انہوں نے دنیامیں خود کوتھکاکر وصال کی حلاوت اوروجدان کی راحت پائی ہے، کانوں کوناپسندیدہ باتوں سے بندکرکے نظریں جھکاتے ہوئے جمالِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ کا مشاہدہ کیا اورمحبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کا جام پی کرمدہوش ہو گئے۔''

    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اتنا کچھ جان لینے کے باوجودیہ غفلت کیسی؟حالانکہ تمہیں بوسیدہ ٹھکانے کی طرف لوٹنا ہے؟ یہ لاپرواہی کیسی؟حالانکہ زندگی مختصرہے۔ کب تک سرکشی اور کوتاہی کرتے رہوگے ؟یہ کاہلی کیسی؟حالانکہ تمہیں ڈرانے والے نے بھی ڈرایا؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! حبیب کے دروازے سے تمہاراپیچھے رہنا تمہاری بری تدبیر ہے۔ کب تک تم تکبر کرتے رہو گے؟ حالانکہ اللہ عزَّوَجَلَّ دیکھ رہا ہے؟ اے بھائیو! جوانی میں تمہارا گھومنا پھرنا تمہیں پریشان کردے گا اور اپنے نفس کے دھوکے کی طرف مائل ہونا تمہیں بدل دے گا اور تمہارا نعمتوں والے گھر کو چھوڑ کر جہنم کی طرف بھا گنا تمہاری حالت کو تبدیل کر دے گا۔کیاتم قبر میں اپنے ٹھکانے کوبھول گئے؟ ہاں! گناہوں نے تمہارے دل کو سیاہ کر کے تمہیں بدل کر رکھ دیا۔ کیا تم اس گھڑی کو یاد نہیں کرتے جس کی ہولناکی سے تمہاری پیشانی سے پسینہ بہنے لگ جائے گا؟جس کے اچانک آنے سے زبانیں گنْگ(گونگی )ہو جائیں گی اور آنکھوں سے افسوس کے قطرے ٹپکنے لگیں گے۔ اللہ عزَّوَجَلَّ تم پر رحم فرمائے، قیامت کے ہوشرُبا منظر کو یاد رکھو! کیونکہ معاملہ بہت سخت ہے اور اپنی بقیہ عمر جلدی جلدی نیکیاں کرنے میں گزارو۔ورنہ موت کے بعد ندامت فائدہ نہ دے گی۔

    اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
(4) وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ﴿19﴾
ترجمۂ کنزالایمان : اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ، یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا ۔ (پ26،ق:19)

    پیارے اسلامی بھائیو! کہاں ہیں تم سے پہلے والے لوگ؟ کہاں ہیں تمہارے ہم عمرجو کُوچ کر گئے؟کہاں ہیں صاحب ِ مال اوران کے جانشین؟ اب وہ سب اپنے گناہوں پر نادم ہو رہے ہیں۔ ہائے افسوس! اے کاش! وہ اس مقام کی ہولناکی کو جان لیتے جس سے بچہ بھی بوڑھاہوجاتاہے۔ اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ جَآءَتْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنْہُ تَحِیۡدُ ﴿19﴾
ترجمۂ کنزالایمان : اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ، یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا ۔(پ26،ق:19)

    پیارے اسلامی بھائیو! تعجب ہے جب تمہیں اللہ عزَّوَجَلَّ کی طرف بلایا جاتاہے توتم لا پرواہی کرنے لگتے ہواور جب تمہیں نصیحتیں نیکیوں کی طرف راغب کرتی ہیں توتم اَکَڑتے ہو۔ یاد رکھو! تم سے پہلے کتنوں کوموت نے پچھاڑاکہ اب ان کانام ونشان بھی باقی نہیں۔ اے وہ لوگوجن کا جسم تو زندہ ہے لیکن دل مردہ ہے۔ عنقریب حسرتوں کے وقت تم اس چیز کا مشاہدہ کرلو گے جس کو دیکھنا نہیں چاہتے۔ چنانچہ، اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
Flag Counter