مؤمن پوچھتاہے: ''آپ کون ہیں؟'' تووہ جواب دیتاہے:''میں تیرا نیک عمل ہوں۔'' جنَّتی نعمتوں کو دیکھ کر دل میں پیدا ہونے والے شوق کی بنا پر مؤمن کہتا ہے:''یا رب عَزَّوَجَلَّ! قیامت قائم فرما۔''
حضور نبئ پاک، صاحب ِ لولاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشاد فرماتے ہیں: ''کا فر جب دنیا سے جا رہا ہوتا ہے تو اس کے پاس سیاہ چہروں والے فرشتے آتے ہیں جن کے پاس بالوں سے بنے ہوئے کمبل ہوتے ہیں۔ وہ تاحدّ ِ نگاہ بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر ملک الموت علیہ السلام آکر اس کے سر کے قریب بیٹھ کر کہتے ہیں:''اے خبیث جان! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ناراضگی اور غضب کی طرف نکل۔''اس کی روح تمام اعضا ء میں بکھری ہوتی ہے جس کو جسم میں سے اس طرح نکالاجاتاہے جس طرح گوشت بھوننے والی تر سیخ اُ ون میں ڈال کرکھینچی جائے تووہ اُون کو ادھیڑدیتی ہے،اس کے تمام اعضاء ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں، ملک الموت علیہ السلام اس کی روح نکالتے ہیں لیکن فرشتے اُن کے ہاتھ میں ایک لمحہ بھی نہیں رہنے دیتے بلکہ اسے لے کر اس کمبل میں ڈال دیتے ہیں جس سے انتہائی ناگوار بُو نکل کر پوری روئے زمین پر پھیل جاتی ہے۔پھروہ اس کو پکڑ کر ملائکہ کے جس گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں:'' یہ خبیث روح کس کی ہے ؟''وہ فرشتے جواب دیتے ہیں:''یہ فلاں بن فلاں کی روح ہے۔'' اور برے برے القابات سے اس کا نام لیتے ہیں یہاں تک کہ وہ آسمانِ دنیا تک پہنچ جاتے ہیں۔ آسمان کا دروازہ کھلوانا چاہتے ہیں لیکن ان کے لئے نہیں کھولاجاتا ۔یہ ارشاد فرمانے کے بعد شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب جُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ورضی اللہ تعالیٰ عنہانے اس آ یتِ مبارکہ کی تلاوت فرمائی: