Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
186 - 649
سورج کی طرح سفیدچہرے والے فرشتے اس کے پاس آتے ہیں، اُن کے پاس جنت کا کفن اور خوشبو ہوتی ہے، وہ اس کے پاس حد ِنگاہ تک بیٹھ جاتے ہیں ۔ پھر ملکُ الموت حضرت سیِّدُنا عزرائیل علیہ السلام تشریف لاتے ہیں اور اس کے سر کے قریب بیٹھ کر فرماتے ہیں: ''اے اطمینان والی پاکیزہ جان! اللہ عزَّوَجَلَّ کی مغفرت اور اس کی رضا کی طرف نکل۔'' آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ''اس کی روح مَشکیزے سے قطرے کی طرح نکل جاتی ہے۔ فرشتے اس روح کو تھام لیتے ہیں اورحضرت ملکُ الموت علیہ السلام کے ہاتھ میں لمحہ بھر بھی نہیں چھوڑتے پھر وہی جنَّتی کفن پہناتے اور خوشبو لگاتے ہیں تو اس روح سے دُنیوی کُستوری سے بھی پیاری خوشبو نکلتی ہے۔ فرشتے اس کو لے کر آسمان پرچڑھتے ہوئے فرشتوں کے جس گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں وہ پوچھتے ہیں: ''یہ پاکیزہ روح کس کی ہے؟'' فرشتے جواب دیتے ہیں: ''یہ فلاں بن فلاں کی روح ہے اور اچھے اچھے القابات سے اس کا نام لیتے ہیں یہاں تک کہ وہ آسمانِ دُنیا تک پہنچ جاتے ہیں اور اس کا دروازہ کھلواتے ہیں توان کے لئے دروازہ کھول دیا جاتاہے۔ اسی طرح ہر آسمان والے اس کو دوسرے آسمان تک پہنچاتے ہیں یہاں تک کہ وہ ساتویں آسمان تک پہنچ جاتا ہے۔تو اللہ عزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: ''اس کا نامۂ اعمال عِلِیِّیْن (یہ وہ مقام ہے جہاں نیک لوگوں کے اعمال لکھے جاتے ہیں )میں لکھ دو اور اس کی روح کو زمین کی طرف لوٹا دو۔''
 (1) مِنْہَا خَلَقْنٰکُمْ وَ فِیۡہَا نُعِیۡدُکُمْ وَ مِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی ﴿55﴾
ترجمۂ کنزالایمان :ہم نے زمین ہی سے تمہیں بنایا اور اسی میں تمہیں پھر لے جائیں گے اوراسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے۔(پ16،طٰہٰ:55)
    پھر اس کی روح جسم میں لوٹا دی جاتی ہے اوراس کے پاس دو فرشتے آکر پوچھتے ہیں:
''مَنْ رَبُّکَ
یعنی تیرارب کون ہے؟'' وہ جواب دیتا ہے:
''رَبِّیَ اللہ
یعنی میرا رب اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے۔''وہ پھرپوچھتے ہیں:
''مَا دِیْنُکَ
یعنی تیرا دین کیا ہے؟'' تو وہ جواب دیتا ہے:
'' دِیْنِیَ الإسْلَام
یعنی میرا دین اسلام ہے۔'' اس کے بعد فرشتے اس سے پوچھتے ہيں:
''مَا تَقُولُ فِیْ ھٰذَا الرَّجُلِ الَّذِیْ بُعِثَ فِیْکُمْ أھُوَ رَسُوْلُ اللہِ
یعنی دنیامیں اس شخصیت کے متعلق کیا کہا کرتا تھاجو تم میں مبعوث ہوئی، کیا یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہیں؟ تووہ جواب دیتا ہے: '
'ھُوَ رَسُوْلُ اللہِ
یعنی (ہاں!) یہ رسول اللہ عزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ہیں۔''وہ پوچھتے ہیں: ''تجھے کس نے بتایا ؟'' وہ جواب دیتاہے:''میں نے قرآنِ حکیم پڑھا، اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی ۔'' سرکار ابد ِ قرار، شافِعِ روزِ شمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم ارشادفرماتے ہیں کہ ا ۤسمان سے ایک منادی اعلان کرتا ہے: ''میرے بندے نے سچ کہا ہے، اس کے لئے جنت کا بچھونا بچھاؤ، اسے جنَّتی لباس پہناؤ اوراس کے لئے جنت کا دروازہ کھول دو۔'' پس اس کو جنت کی ہوا اور خوشبو پہنچے گی،اس کی قبرتاحد ِنظروسیع کر دی جائے گی اور خوبصورت چہرے والاایک شخص اس کے پاس آکر کہے گا: ''میں تجھے ایسی بشارت دیتاہوں جو تجھے خوش کر دے گی، یہ وہی دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا گیاتھا۔''بندۂ
Flag Counter