| حکایتیں اور نصیحتیں |
فرمائی تواللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کوزندہ فرمادیا، وہ کھڑے ہوئے تو حضرت سیِّدُنا عیسیٰ علیہ الصلٰوۃوالسلام نے دیکھا کہ ان کے سر اور داڑھی کے بال سفیدتھے توآپ علیہ الصلٰوۃ والسلام نے دریافت فرمایا:''یہ بڑھاپا تو آپ کے زمانے میں نہیں تھا؟'' توانہوں نے جواب دیا: ''جب میں نے ندا سُنی توگمان ہوا کہ شاید قیامت قائم ہو گئی ہے، اس کی ہیبت سے میرے سر اور داڑھی کے بال سفید ہو گئے ہیں ۔'' حضرت سیِّدُنا عیسٰی علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام نے دریافت فرمایا: ''آپ کو اس دار فانی سے کوچ کئے ہوئے کتنی مدت ہوگئی ہے ؟'' تو انہوں نے بتایا: ''مجھے اس دنیا سے رخصت ہوئے چار سو سال ہوگئے ہیں لیکن موت کی کڑواہٹ ابھی تک مجھ سے دور نہیں ہوئی۔''
(تفسیر القرطبی،آل عمران،تحت الآیۃ۴۹،الجزء الرابع ، ج۲،ص۷۴،بتغیرٍ)
؎ گر تیرے پیارے کا جلوہ نہ رہا پیشِ نظر سختیا ں نزع کی کیوں کر میں سہوں گا یارب نزع کے وقت مجھے جلوۂ محبوب دکھا تیرا کیا جائے گا میں شاد مروں گا یارب
اعمال لکھنے والے فرشتوں کی زیارت:
حضرت سیِّدُنا وہب بن منَبِّہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ'' ہمیں یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اس جہانِ فانی سے کوچ کرنے والا مرنے سے پہلے ان دونوں فرشتوں کو دیکھ ليتاہے جو اس کے اعمال کو دنیا میں محفوظ کیا کرتے تھے ،اگر وہ شخص بھلائی کے کام کرتا تھا تو فرشتے کہیں گے: ''اللہ عزَّوَجَلَّ تمہیں ہماری طرف سے بہترین جزا عطافرمائے تو نے ہمیں خیر و برکت کی بہت سی مجلسوں میں بٹھایا اورہمارے پاس اعمالِ صالحہ کاذخیرہ جمع کیا۔'' اور اگر وہ شخص برے کام کرتا تھا تو فرشتے کہیں گے: ''اللہ عزَّوَجَلَّ تجھے ہماری طرف سے اچھی جزاء نہ دے تو نے ہمیں شر کی بہت سی مجلسوں میں بٹھایا اور بری گفتگوسنوائی۔''اس وقت اس کی آنکھیں پتھرا جاتی ہیں پھر وہ دنیا کی طرف کبھی نہیں لوٹتا ۔
(موسوعۃ لابن ابی الدنیا،کتاب ذکر الموت، باب ملک الموت واعوانہ،ا لحدیث ۲۳۹، ج۶،ص۴۶۶۔حلیۃ الاولیاء،وھیب بن الورد، الحدیث۱۱۷۱۶، ج۸، ص۱۶0، بتغیرٍقلیلٍ)
مؤمن اور کافر کی موت میں فرق:
حضرت سیِّدُنا براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نبئ مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اَکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی معیت میں ایک انصاری شخص کے جنازے میں شریک ہوئے۔جب ہم قبر کے قریب پہنچے تو رسولِ خدا عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم تشریف فرما ہو گئے۔ ہم بھی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے گرد اس طرح بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے دستِ اقدس میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم زمین کُرید رہے تھے۔پھرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنا سرِانور اُٹھا کر ارشاد فرمایا: ''قبر کی آزمائش اور اس کے عذاب سے اللہ عزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگو۔''دو یا تین مرتبہ یہی ارشاد فرمایا۔ پھر فرمایا:''بے شک بندۂ مومن جب دنیا سے کوچ کررہا ہوتا ہے تو