تمام تعریفیں اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جو بلند وبالا اور بزرگی والا ہے، سب خوبیوں والا ہے، پیدا کرنے والا اور لوٹانے والا ہے، اپنے ارادے کو پورا کرنے والا ہے، اپنے جلالِ کبریائی میں یکتاہے، جس کی کوئی کیفیت وحد بندی نہیں،اس کے ملک کی کوئی ابتدا ہے نہ انتہا، اس نے تمام انسانوں کو پیدا فرمایا اور ہدایت کی طرف رہنمائی کے لئے ان کو صحیح راستوں پر چلایا، اور انہیں اپنی پسندیدہ صورت پر پیدا فرمایا اور ہمیشہ کی زندگی اور نعمتوں والی جنت کی بشارت عطا فرمائی، نگاہِ عبرت عطافرمائی، اورعذابِ جہنم اور وعیدوں کے ذریعے اسے ڈرایا اور انسان پر اپنا شکر اد اکرنا لازم فرمایا اور انہیں اپنے مزید فضل وکرم کی ضمانت عطافرمائی اور ان پر موت مقرر کردی پس اس سے کسی کو چھٹکارا نہیں اور نہ ہی بھاگنے کی کوئی جگہ ہے۔اس نے کتنے دوستوں کو اپنے دوستوں کی جدائی پر رلایا؟ کتنے بچوں کو یتیم کیااور انہیں آہ وبکا اور گریہ وزاری میں مبتلا فرمایا؟وہ انسان کو موت دینے کے بعد نہ ظاہر کرتا ہے نہ واپس لوٹاتا ہے، اس نے اہلِ دنیا پر موت مقرر فرمائی اور ہر آزاد وغلام کو تقدیر کے تیروں کا ہدف بنایا، اورچاند کی منازل کو اس سے دُور کر دیا، اور طائر ِ روح کو قفسِ عنصری سے جداکردیا۔انسان کو زندگی کی لذت کے بدلے قبر کی بے کیف ومکدر زندگی دی۔ پس بادشاہ اور محتاج وغنی سب کے سب فقر اور موت میں برابر ہیں ۔
پاک ہے وہ ذات جس نے ہر جابرو سرکش کو موت کی ذلت میں گرفتار کیااورہر باطل پرست کو توڑدیا، ان کووسیع محلوں سے تنگ قبرمیں ڈال دیا ،ان کی لمبی مدت کی رسی کو کاٹ کران کے آباء و اجداد کو ا ن سے لے لیا اور بچوں کو پنگھوڑوں سے اٹھایا اورقبر کو ان کا ٹھکانہ بنا دیا۔ ان کے چہرے مِٹی میں مل گئے، موت کے معاملے میں چھوٹے بڑے، امیر غریب، آقا وغلام اور بچے سب برابر ہیں، اس سے مردوں عورتوں کا ذکر بھی خاموش ہوگیا۔پس وہ قیامت تک قبروں کی قید میں رہیں گے۔ کیا عقلمند ان کی ہلاکت سے عبرت حاصل نہیں کرتا۔ تمام لوگ تنہا کوٹھڑی میں چلے گئے، کہاں گئے بڑے بڑے شہروں اور مضبوط قلعوں والے! کہاں گئے طرح طرح کے فنون میں مہارت رکھنے والے! کہاں گئے مضبوط حصاروں میں بند اور مضبوط محلات میں محفوظ رہنے والے! اب تو ان میں مضبوط ترین اور طاقتور لوگ قبر کی تاریکی میں اکیلے پڑے ہیں۔ کیا انہیں بزرگی والے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان نے نہیں ڈرایا: