'' وَجَآءَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ'
سے مراد نبئ کریم، ر ء ُوف رحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی زبانِ مبارک پرکیا گیا اللہ عزَّوَجَلَّ کا وعدہ ہے، اور وہ یہ ہے کہ ملک الموت علیہ السلام کااپنے لشکر کے ساتھ ظاہر ہونا، آسمان کا شق ہونا اور بندے کو معلوم ہو جاناکہ اس کا ٹھکانہ جنت میں ہو گا یا جہنم میں۔یہ سب کچھ نزع کے وقت ہوتاہے ۔ اور یہ حق ہے جس کو نبئ پاک، صاحب ِ لولاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ایمان بالغیب میں بیان فرمایا۔ پھر اس کے بعدقبر میں نکیرَین(یعنی منکر نکیر) کاسوال کرنا۔ جب میت کو قبر میں اُتارا جاتاہے تو سب سے پہلی سختی یہی ہوتی ہے۔ سَکْرَۃُ الْمَوْت میں سَکْرَۃٌ جنس کوشامل اسمِ مفرد ہے (یعنی موت کی ہر قسم کی سختی) کیونکہ موت کی سختیاں بہت زیادہ ہیں۔
جب حضورنبئ پاک، صاحبِ لَوْلاک، سیّاحِ اَفلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم مرضِ موت میں مبتلا ہوئے تو ارشاد فرمایا:ـ ـ''موت کی بہت سختیاں ہیں۔''
(صحیح البخاری ،کتاب الرقاق ، باب سکرات الموت، الحدیث۶۵۱0، ص۵۴۶)
ہر شخص پر موت کی سختیاں اس کے دنیا میں کئے ہوئے اعمال کے مطابق ہوں گی۔ ان سختیوں کو سَکْرَۃٌ کہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے ظہور کے وقت عقلیں زائل ہو جاتی ہیں تو انسان ایسا ہو جاتا ہے جیسا کہ نشے میں مدہوش شخص ہوتا ہے کیونکہ موت کے وقت بندے پر اس کے اچھے بُرے اعمال ظاہر ہوجاتے ہیں جن کے مطابق اس کو جزا ملے گی۔ پس غیبت کرنے والے کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جائیں گے اور غیبت سننے والے کے کانوں میں جہنم کی آگ بھر دی جائے گی، ظالم کی روح ہر مظلوم پرتقسیم کردی جائے گی ،حرام کھانے والے کے لئے کھانے میں زقوم (یعنی جہنم کے ایک کانٹے دار درخت کا انتہائی کڑوا پھل) دیا جائے گا۔ اسی طرح نزع کی سختیوں کے وقت بندے پر اس کے دیگر اعمال بھی ظاہر ہو جائیں گے اور میت پر تمام سختیاں ایک ایک کرکے گزریں گی۔ آخری سختی گزرتے وقت اس کی روح قبض ہوجائے گی۔ اور اللہ عزَّوَجَلَّ کے ارشاد
''ذٰلِکَ مَا کُنْتَ مِنْہُ تَحِیْدُ''
کا مطلب یہ ہے کہ ''لمبی اُمیدوں اور دنیا میں ہمیشہ رہنے کی حرص کے ساتھ تو موت سے بھاگتا تھا۔''
قبر جنت کا باغ یا جہنم کا گڑھا ہے:
حضرت سیِّدُنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے پیارے حبیب ،حبیب ِ لبیب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے کچھ لوگوں کو ہنستے ہوئے دیکھا توارشاد فرمایا:''اگر تم لذتوں کو ختم کرنے والی (موت) کو یاد کرتے تواس سے غافل ہو جاتے