یہ بتانے آیاہوں کہ جب میں نے اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں تمہارے خلاف دعاکے لئے ہاتھ اٹھائے تو ایک پکارنے والے نے نِدا دی : ''اسے بد دعا نہ دے کیونکہ یہ ہمارے اولیا ء میں سے ہے۔'' جب اس نے یہ سنا تو بہت رویا اور سچے دل سے تائب ہو گیا۔ لوگ اس کی زیارت کرنے اور اس سے برکت حاصل کرنے کے لئے کثرت سے جمع ہونے شروع ہوگئے۔ پھروہ پیدل مکۂ مکرمہ زادھا اللہ تعالٰی شرفًا وتکریمًاچلاگیا اور وہیں مقیم ہو گیا۔اگلے سال میں نے حج کیا۔ ظہرکے وقت مسجد ِ حرام کی دیوار کے سائے میں بیٹھا تھا کہ میں نے مسجد کے کونے میں ایک گروہ دیکھا۔ میں کھڑاہوا اور دیکھا کہ لوگ ایک شخص کے گرد جمع ہیں۔ غور کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ تو میرا وہی پڑوسی تھا۔وہ مِٹی پرلیٹا ہوالمبی لمبی سانسیں لے رہا تھا۔ میں اس کے سر کے قریب بیٹھ کر رونے لگا۔اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اورمجھے دیکھ کر کہنے لگا:''اے مالک (علیہ رحمۃ اللہ الخالق)! دیکھو! وہ رب عَزَّوَجَلَّ برائیوں سے درگزر کرتاہے اور آنسو بہانے والوں پر رحم فرماتاہے۔میں اس محلہ سے نکلا اور تجھ سے حیاء کرتے ہوئے اپنے وطن اورگھر والوں کو چھوڑ دیاحالانکہ توبھی میری طرح مخلوق ہے،(مگرمیں نے خالق عَزَّوَجَلَّ سے حیا نہ کی تو) میں کل بروزِ قیامت اس کی بارگاہ میں کیسے کھڑا ہوں گا؟ پھر اس نے ایک آہِ سرددلِ پُردَرد سے کھینچی اوراس کے ساتھ ہی اس کا طائر ِ روح قَفَسِ عُنْصُری سے پرواز کر گیا۔
حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی علیہ رحمۃاللہ الہادی فرماتے ہیں کہ ''میں ایک سال بیت اللہ شریف کے سفر پر تھا۔ راستے میں ایک شخص کی انتہائی پُرسوز آواز سنائی دی۔میں جلدی سے اس کی طرف گیا اورجاکراسے سلام کیا۔ اس نے میرانام لے کر مجھے جواب دیاتو میں نے اس سے پوچھا:''اے میرے دوست!آپ کو میر انام کس نے بتایا؟''اس نے جواب دیا:''عالَمِ ملکوت میں میری اور آپ کی روح کی ملاقات ہوئی تھی لہٰذا مجھے آپ کا نام ہمیشہ رہنے والی اس ذات نے بتایا جس کو موت نہیں ۔''پھراس نے کہا: ''اے جنید (رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ )! جب میں مر جاؤں تو مجھے غسل دینااور انہیں کپڑوں میں کفن دے کراس ٹیلے پرچڑھ کر اعلان کرنا: