جو راستہ بتایا گیا تھامیں نے اس پر چند بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھا، اُن میں سے ایک بچہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا: اے میرے بزرگ! شاید آپ ہمارے والد کی موت کی خبر دینے آئے ہیں۔''حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی علیہ رحمۃاللہ الہادی فرماتے ہیں: مجھے اس بچے کے کلام سے بڑا تعجب ہوا، اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور گھر جاکر دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک بوڑھی عورت باہر آئی اور کہنے لگی: ''اے جنید (ر حمۃاللہ تعالیٰ علیہ )! میرے بیٹے کا انتقال کہاں ہوا؟ شاید عرفہ میں۔''تومیں نے کہا : ''نہیں۔''یہ سن کر کہنے لگی : ''تو پھرشایدکسی وادی میں درخت کے نیچے یاکسی جنگل میں۔'' تومیں نے کہا: ''جی ہاں ۔''تو بولی: ''ہائے افسوس اس لڑکے پر! جسے نہ تو اس کے گھر پہنچایا گیا اور نہ ہمارے پاس چھوڑا گیا۔''پھر اس کے منہ سے ایک آہ نکلی اور اس نے چنداشعار پڑھے، جن کا مفہوم یہ ہے:
''کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ زمانے نے مجھ پر کیسے کیسے ستم ڈھائے اورجدائی کے تیر مارے اور میرے دوست، احباب کو مجھ سے دور کر دیا۔وہ سب میرے دل میں معزز مقام و مرتبہ رکھتے تھے ۔اُن کی جدائی کے بعد میں نے خود کو بڑا مجبور وبیکس پایا کہ میرے دل کے راز چھپانے کے سارے اصول بھی ختم ہو گئے۔جس دن وہ مجھ سے جدا ہوئے تھے اس دن میری آنکھ نے خون کے آنسوبہائے اور ان کی جدائی نے مجھے سخت دل نہ بنایا تو لوگوں نے گہراسانس لے کر کہا: ''اے نوجوان!تو اپنی آنکھوں کی پَلکوں کو رورو کر وَرَم آلود بنا رہا ہے۔ تو پہلا انسان نہیں کہ جس کے احباب اس سے بچھڑ گئے اور جو حوادثاتِ زمانہ کا شکار ہوا۔ زمانہ ہمیشہ ایک حال پر نہیں رہتا بلکہ اس میں خوشی، غمی آتی رہتی ہے۔''
پھراس نے ایک زور دار چیخ ماری اوراپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔