Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
177 - 649
عارف ہے۔'' پھر میں نے اس سے پوچھا: ''کیا آپ کے پاس کوئی توشہ ہے؟'' تو اس نے جواب دیا: ''ہاں ہے۔'' میں نے پوچھا: ''کہاں ہے؟ '' تو اس نے جواب دیا: ''میرے دل میں میرے مالکِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کے لئے اخلاص ہے ۔'' میں نے کہا: ''کیا میں آپ کا رفیق بن سکتاہوں ؟ ''تواس نے کہا :''رفیق اللہ عزَّوَجَلَّ سے غافل کردیتا ہے اور میں کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو مجھے ایک لمحہ کے لئے بھی اللہ عزَّوَجَلَّ کی یادسے غافل کرے۔'' پھر میں نے اس سے پوچھا: ''آپ کہاں سے کھاتے ہیں ؟'' تو اس نے جواب دیا:''وہ خدا جس نے مجھے ماں کے پیٹ کی تاریکی میں اوربچپن میں غذادی وہی جوانی میں میرے رزق کا کفیل ہے، جب مجھے کھانے پینے کی حاجت ہو تی ہے تو کھانا میرے سامنے حاضر ہو جاتا ہے۔''میں نے عرض کی: ''کیا آپ کو کسی قسم کی حاجت ہے؟'' تو اس نے جواب میں کہا:'' میری حاجت یہ ہے کہ آج کے بعد آپ مجھے سلام نہ کریں۔'' میں نے عرض کی: ''میرے لئے دعا فرمائیں۔''تووہ مجھے دعا دینے لگاکہ'' اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو ہر گناہ سے محفوظ فرمائے اور اپنا قرب بخشنے والے اعمال میں مشغول فرمادے۔'' پھر میں نے اس سے پوچھا:'' آج کے بعد کہا ں ملاقات ہو گی ؟ '' جواب ملا:''آج کے بعد ہماری ملاقات نہیں ہو گی، اگر آپ مقرَّبین میں سے ہیں تو مجھے کل بروزِ قیامت مقرَّبین کے مراتب میں تلاش کرنا۔''پھر وہ غائب ہو گیا اور اس کے بعد میں نے اسے نہیں دیکھا، اس کے اچانک نظروں سے اوجھل ہوجانے پر میں عرصۂ دراز تک افسوس کرتا رہا۔''
نافرمان اللہ عزَّوَجَلَّ کاولی بن گیا:
    حضرت سیِّدُنا مالک بن دینا ر علیہ رحمۃاللہ الغفار فرماتے ہیں کہ میرا ایک انتہائی شریر پڑوسی تھااس کی شکایت لے کراہلِ محلہ میرے پاس آئے تاکہ میں اسے سمجھاؤں۔ جب میں اس کے پاس گیا اوراس سے کہا:'' تیری نافرمانیاں زیادہ ہو گئی ہیں یا تو توبہ کر لے یا پھراس محلے سے چلا جا ۔''توا س نے جواب دیا:''میں اپنے ملک میں ہی رہوں گااور یہاں سے نہیں نکلوں گا۔''میں نے کہا: ''ہم حاکمِ وقت سے تیری شکایت کریں گے ؟''تووہ کہنے لگا: ''میری اس سے دوستی ہے ۔'' تو میں نے کہا:''ہم تیرے خلاف اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا کریں گے۔''یہ سن کراس نے کہا: ''میرا رب عَزَّوَجَلَّ تم سے زیادہ مجھ پررحم فرمانے والا ہے۔'' پھر وہ میرے پاس سے اُٹھ کھڑا ہوا۔میں نے رات سحری کے وقت اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دُعا کے لئے ہاتھ اُٹھا دیئے اور عرض گزار ہوا: اے میرے مالکِ حقیقی!فلاں شخص نے ہمیں تکلیف دی ہے لہٰذا تو اسے اس کی سزا دے۔''توہاتف ِ غیبی نے پکار کر کہا: ''اسے بد دعا نہ دے کیونکہ یہ ہمارے اولیاء میں سے ہے۔''میں اسی وقت اُٹھا اورجا کر اس کے دروازے پردستک دی۔ جب وہ شخص باہر آیا تو سمجھا کہ شاید میں اسے محلہ سے نکالنے آیا ہوں تو وہ رونے لگا اور معذرت کرتے ہوئے کہنے لگا:''اے میرے محترم! میں نے آپ کی بات مان لی ہے اور اب میں اس محلہ سے نکل جاؤں گا ۔''تومیں نے کہا: ''میں اس لئے نہیں آیا بلکہ
Flag Counter