عارف ہے۔'' پھر میں نے اس سے پوچھا: ''کیا آپ کے پاس کوئی توشہ ہے؟'' تو اس نے جواب دیا: ''ہاں ہے۔'' میں نے پوچھا: ''کہاں ہے؟ '' تو اس نے جواب دیا: ''میرے دل میں میرے مالکِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کے لئے اخلاص ہے ۔'' میں نے کہا: ''کیا میں آپ کا رفیق بن سکتاہوں ؟ ''تواس نے کہا :''رفیق اللہ عزَّوَجَلَّ سے غافل کردیتا ہے اور میں کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو مجھے ایک لمحہ کے لئے بھی اللہ عزَّوَجَلَّ کی یادسے غافل کرے۔'' پھر میں نے اس سے پوچھا: ''آپ کہاں سے کھاتے ہیں ؟'' تو اس نے جواب دیا:''وہ خدا جس نے مجھے ماں کے پیٹ کی تاریکی میں اوربچپن میں غذادی وہی جوانی میں میرے رزق کا کفیل ہے، جب مجھے کھانے پینے کی حاجت ہو تی ہے تو کھانا میرے سامنے حاضر ہو جاتا ہے۔''میں نے عرض کی: ''کیا آپ کو کسی قسم کی حاجت ہے؟'' تو اس نے جواب میں کہا:'' میری حاجت یہ ہے کہ آج کے بعد آپ مجھے سلام نہ کریں۔'' میں نے عرض کی: ''میرے لئے دعا فرمائیں۔''تووہ مجھے دعا دینے لگاکہ'' اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو ہر گناہ سے محفوظ فرمائے اور اپنا قرب بخشنے والے اعمال میں مشغول فرمادے۔'' پھر میں نے اس سے پوچھا:'' آج کے بعد کہا ں ملاقات ہو گی ؟ '' جواب ملا:''آج کے بعد ہماری ملاقات نہیں ہو گی، اگر آپ مقرَّبین میں سے ہیں تو مجھے کل بروزِ قیامت مقرَّبین کے مراتب میں تلاش کرنا۔''پھر وہ غائب ہو گیا اور اس کے بعد میں نے اسے نہیں دیکھا، اس کے اچانک نظروں سے اوجھل ہوجانے پر میں عرصۂ دراز تک افسوس کرتا رہا۔''