Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
176 - 649
    حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابو محمد فراء رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''جب ابلیس لعین اور اس کا لشکر اکٹھا ہوتا ہے تو وہ کسی شئے پر اتنے خوش نہیں ہوتے جتنے تین چیزوں پر خو ش ہو تے ہیں: (۱)۔۔۔۔۔۔مسلمان مسلمان کو قتل کرے (۲)۔۔۔۔۔۔کوئی شخص کفر پر مر جائے اور (۳)۔۔۔۔۔۔ایسا شخص جس کے دل میں فقر کا خوف ہو ۔''
بیان15:         اولیاء کرام رضی اللہ عنہم کے اوصاف
حمد ِباری تعالیٰ:
    تمام خوبیاں اللہ عزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے اپنی مخلوق میں سے اولیا ء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کو پسند فرمایا اوران کو بلند مقام و مرتبہ عطا فرمایا جنہوں نے اس سے کئے ہوئے عہد کو پورا کیا تو اس نے ان کا تذکرہ پوری کائنات میں پھیلا دیا،زمانے کوان کی برکت سے زینت عطا فرمائی، ان کے عرفان کی مہک سے تمام عالم کو معطّر فرما دیا، انہیں اپنا قرب عطا فرما کر ان کامطالبہ پورا کر دیا، اُن کی محبت کو اُن کے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے والا بنا دیا، انہوں نے اللہ عزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اپنے سر جھکا دئیے اوراپنی خواہشات کی قربانی دے دی تو اس نے بھی انہیں اجر وثواب کے خزانے عطا فرمادئیے،انہوں نے اپنے محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے بخوشی تکالیف برداشت کیں اور کڑوی چیز کو میٹھا سمجھا، رب عَزَّوَجَلَّ کی تلاش میں دیوانوں کی طرح گھومتے رہے اور اس کو پانے میں اپنی جان تک قربان کر دی اور محبت کی بیڑیوں میں اسیر ہوگئے ، اُن کو خزانے پیش کئے گئے مگر انہوں نے ٹھکرا دئیے، دُنیا ان پر فدا ہونے کی کوشش کرتی رہی لیکن انہوں نے اس سے کنارہ کشی اختیار کرلی، انہوں نے فقروفاقہ اختیار کیا۔ اللہ عزَّوَجَلَّ نے انہیں آزمائش میں مبتلا فرمایا تو انہوں نے ان احسانات پر شکر ادا کیا اورصبر کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا۔ شیطان نے ان پر اپنے مکروفریب کا جال ڈالنے کی کوشش کی لیکن اس کا ان پر کوئی بس نہ چل سکا اوروہ انہیں دھوکادینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ یہ صرف اللہ عزَّوَجَلَّ کے محتاج ہیں اوراس کی عطا سے غنی ہو گئے جنہیں غیرِ خدا سے مستغنی کر دیا گیا اورسحری کے وقت ان کے لئے پردے اٹھا دئیے گئے۔
اللہ عزَّوَجَلَّ والو ں کے اعمال :
    حضرت سیِّدُناابواشہل سائح رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''میں نے مکہ مکرّمہ زادھا اللہ تعالٰی شرفًا وتکریمًاسے چند میل کے فاصلے پر ایک نوجوان کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، وہ قافلہ سے بِچھڑ گیا تھا۔ میں اس کے نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگالیکن اس کی نماز طویل ہو گئی۔جب اس نے سلام پھیرا تو میں نے اسے السَّلَامُ عَلَیْکَ کہا۔اس نے وعَلَیْکَ السَّلَامُ کہتے ہوئے سلام کا جواب دیا۔ میں نے اس سے پوچھا:''معلوم ہوتاہے کہ آپ اپنے ہم سفروں سے پیچھے رہ گئے ہیں، کیا آپ کا کوئی رفیق ہے جو آپ کو ان سے ملانے میں مدد کرے ؟''تو وہ رودیا اور کہنے لگا:'' ہاں ہے۔'' میں نے پوچھا:'' کہاں ہے؟''تو اس نے جواب دیا:''وہ میرے آگے پیچھے اور دائیں بائیں موجود ہے۔'' آپ فرماتے ہیں کہ میں نے پہچان لیاکہ یہ
Flag Counter