Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
174 - 649
تمام مخلوق کی نیکیوں کے برابر نیکیاں:
    منقول ہے کہ اللہ عزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ علٰی نبیناوعلیہ الصلٰوۃوالسلام کی طرف وحی فرمائی: ''کیا تم چاہتے ہو کہ بروزِ قیامت تمہاری نیکیاں تمام مخلو ق کی نیکیوں کے برابر ہوں؟''توانہوں نے عرض کی :''جی ہاں!اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ!'' تو اللہ عزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: '' مریضوں کی عیادت کر اور فقراء کے کپڑوں کا اہتمام کر۔'' پس حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنے اوپر لازم کر لیا کہ ہر ماہ سات دن فقراء کے لباس کا اہتمام کرتے اور مریضوں کی عیادت فرماتے۔

    حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن مبارَک رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:'' فقر میں غنا کو ظاہر کرنا فقر ظاہر کرنے سے افضل ہے۔''
فقرمیں چار چیزوں کا ہونا ضروری ہے:
    منقول ہے کہ فقیر کے پاس فقرمیں کم از کم چار چیزوں کا ہونا ضروری ہے: (۱)۔۔۔۔۔۔ ایسا علم جو اسے مزیَّن کردے (۲)۔۔۔۔۔۔ ایسا تقوی جو اس کی حفاظت کرے (۳)۔۔۔۔۔۔ ایسا یقین جو اُسے خوش اخلاق بنا دے اور(۴)۔۔۔۔۔۔ ایسا ذکر جو اسے مانوس کرے۔

    حضرتِ سیِّدُنا ابوحفص رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: '' کسی کا فقر اس وقت تک صحیح نہیں ہو سکتاجب تک کہ وہ لینے سے زیادہ دینے کومحبوب نہ رکھے اور سخاوت اس چیز کا نام نہیں کہ مال پانے والا نہ پانے والے کو دے۔'' حضرتِ سیِّدُنا ابن جلال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ''اگر عاجزی وانکساری قابلِ فخر شئے نہ ہوتی تو فقیر کو حکم دیاجاتاکہ وہ متکبرانہ چال چلے۔''
ایک قمیص دخولِ جنت کا سبب بنی :
    ایک بزرگ فرماتے ہیں: میں نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہو گئی اورکوئی کہنے والا کہہ رہاہے:''اے مالک بن دینار!اے محمد بن واسع(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما )! جنت میں داخل ہو جاؤ۔'' میں دیکھنے لگا کہ دونوں میں سے کون پہلے جاتاہے تو حضرتِ سیِّدُنا محمد بن واسع رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ جنت میں پہلے داخل ہوئے۔ میں نے اس کا سبب دریافت کیا تومجھے بتایا گیا: ''محمدبن واسع رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے پاس ایک قمیص تھی اور مالک بن دینارعلیہ رحمۃاللہ الغفار دو قمیصوں کے مالک تھے ۔''

    حضرتِ سیِّدُنا یحیٰ بن معاذ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:''کل میزان میں فقر وغنا نہیں رکھا جائے گابلکہ صبر وشکر رکھا جائے گا لہٰذا آؤ! ہم صبر وشکر کرنے والے بن جائیں۔''

    اے پیارے اسلامی بھائی! جو شخص ان بزرگوں کے اوصاف اپنائے ہوئے ہو لیکن ان کی پیروی نہ کرے تو وہ ان سے محبت کرنے والا نہیں۔
Flag Counter