وہ بزرگ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے آگے بڑھ کر کہا: ''اے کمزور اورغمگین بڑھیا! میرے پاس اس نوجوان کا خط ہے، وہ دُوری کا شکوہ کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اس شہر میں اس کے گھر والے ہیں،وہ اپنی والدہ کے دیدار کا بَہُت مشتاق تھا جو اس سے کافی محبت و مودّت رکھتی ہے۔'' اس وقت اس بوڑھی خاتون نے ایک چیخ ماری اور کہنے لگی: '' اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!یہ میرے ہی مسافر بیٹے کی صفت ہے ۔''اس نے مجھ سے خط لیا تاکہ اپنے شکستہ دل کو جوڑے۔ وہ بزرگ فرماتے ہیں کہ وہ مجھے سے خط لے کر چومنے لگی اور اپنے دل اور آنکھوں پر رکھ کر پوچھا:''اے میرے پردیسی بیٹے کے قاصد! میرے محبوب بیٹے کا کیا ہوا؟'' میں نے اسے بتایاکہ'' وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے جا ملاہے۔''جب اس نے سنا کہ اس کا بیٹا تنہا راہِ حق کا مسافر ہو گیا ہے توبہت زیادہ روئی پھر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھاکرکہنے لگی :
''اے میرے مالک و مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! مجھے دنیا میں زندہ رہنا اس لئے پسند تھا کہ اپنے بیٹے سے ملاقات کی امید تھی لیکن اب مجھے دنیا میں رہنے کی کوئی حاجت نہیں۔'' پھر اس نے ایک زَور دارچیخ ماری اور زمین پر گر گئی اور اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی ۔میں نے اس کی تجہیز و تکفین کا ارادہ کیا تو کوئی کہنے والاجس کی صورت نظرنہ آئی کہہ رہاتھا : ''اے شخص!ٹھہر جا، اس کا معاملہ تیرے ذمہ نہیں۔''