Brailvi Books

حکایتیں اور نصیحتیں
169 - 649
     اے میرے باپ! کون ہے جوحاکمِ اعلیٰ عَزَّوَجَلَّ کے حکم پر اعتراض کرنے کی طاقت رکھتاہو۔ اے میرے باپ!اگر میرا مولیٰ عَزَّوَجَلَّ مجھ سے راضی ہو جائے تو آپ وہ کام کر گزرئیے جس کا آپ کو حکم دیا گیا۔ بے شک موت بڑی اچھی اور میٹھی ہے۔

    منقول ہے کہ جب حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃوالسلام نے کلامِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ کا لذیذ جام نوش فرما لیا اور آگ لینے کے لئے نکلے تو جبار کی عنایت سے آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کی قدر بڑھ گئی اورجب آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام درخت کے پاس پہنچے جبکہ آپ علیہ الصلٰوۃوالسلام کا دل انوارِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ کا منتظر تھا کہ ایک ندا سنی: ''اے موسیٰ۔'' تو اس سے آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کو مزید قرب اور اُنس ملا۔ چنانچہ، آپ اس پر غور وفکر کرتے ہوئے ہر سمت کی طرف بڑھنے لگے۔ تو آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام کو پھر ایک نِدا سُنائی دی: '' اے موسیٰ! فکر نہ کیجئے۔'' پھر ارشاد ہوا:
(4) فَاخْلَعْ نَعْلَیۡکَ ۚ اِنَّکَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی ﴿ؕ12﴾
ترجمۂ  کنزالایمان : تو تُو اپنے جوتے اتار ڈال، بے شک تو پاک جنگل طُوٰی میں ہے۔(پ16،طٰہٰ:12)
    جو ایسا مقام ہے جہاں گناہوں سے آلودہ بندہ نہیں آسکتا اوروحشت زدہ آئے تومانوس ہو جاتا ہے آپ علیہ الصلٰوۃ و السلام نے پھر ندا سنی: ''اے موسیٰ!
اِنَّنِیۡۤ اَنَا اللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیۡ ۙ
ترجمۂ  کنزالایمان :بے شک میں ہی ہوں اللہ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری بندگی کر۔''(پ۱۶،طٰہٰ:۱۴)                                                                                  لہٰذا مجھے پہچان، میں تیرا عظیم معبود ہوں، مجھے ہی عظمت والا جان، اور میں رزق دینے والا مالک ہوں لہٰذ امیرے سوا کسی سے سوال نہ کربلکہ مجھ سے مانگ، اور میں شدید سزا دینے والا ہوں لہٰذا میرے عذاب سے ڈر، اور جو مجھے یاد کرے میں اس کے قریب ہوتاہوں لہٰذ ا مجھے یاد کر۔

    حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے عرض کی :اے میرے مالک ومولیٰ عَزَّوَجَلَّ! تو نے اپنی طرف میری رہنمائی فرمائی اور مجھے اپنا قرب عطا فرمایا،(پھر آپ علیہ الصلٰوۃ والسلام نے عرض کی :)
 (5) رَبِّ اَرِنِیۡۤ اَنۡظُرْ اِلَیۡکَ ؕ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِیۡ وَلٰکِنِ انۡظُرْ اِلَی الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَہٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیۡ ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا وَّ خَرَّ مُوۡسٰی صَعِقًا ۚ
ترجمۂ  کنزالایمان : اے رب میرے!مجھے اپنا دیدار دکھا کہ میں تجھے دیکھوں۔ فرمایا: تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا ہاں! اس پہاڑ کی طرف دیکھ یہ اگر اپنی جگہ پرٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنا نور چمکایا اسے پاش پاش کر دیا اور موسیٰ گرابے ہوش۔(۱)(پ9،الاعراف: 143)
1۔۔۔۔۔۔مفسِّرِ شہیر، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُالافاضل سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ''لَنْ تَرٰنِیْ'' کا معنی یہ ہے کہ تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گایعنی ان آنکھوں سے سوال کرکے۔ بلکہ دیدارِ الٰہی بغیر سوال کے محض اس کی ۔۔۔۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر
Flag Counter