منقول ہے کہ جب حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃوالسلام نے عرض کی: ''اے میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ!مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ فرماتا ہے؟''تواللہ عزَّوَجَلَّ نے فرمایا:''اے ابراہیم( علیہ السلام)!تجھے ہماری قدرت میں شک ہے جو تو دلیل طلب کرتے ہوئے کہتاہے کہ مجھے دکھا ؟ '' تو آپ علیہ السلام نے عرض کی:'' اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ!تونے مجھے دل کی آنکھ سے دکھایا، اب میں ظاہری آنکھ سے دیکھنا چاہتا ہوں تاکہ میں ظاہری وباطنی نگاہ سے دیکھ لوں۔'' تو اللہ عزَّوَجَلَّ نے حکم فرمایا: ''چار پرندے پکڑکر ذبح کر اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہر پہاڑ پرایک ایک ٹکڑ ا رکھ دے اور ان کے سروں کو اپنی انگلیوں کے درمیان رکھ کر ان کو بُلا۔''
حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃوالسلام نے ایسا ہی کیا تو قدرتِ خداوندی سے ایک ایسی ہواچلی کہ بکھرے ہوئے اجزاء اور ٹکڑے ٹکڑے کیا ہوا گوشت جمع ہوکر حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام کے پاس حاضر ہوگئے اور ان میں سے ہر ایک پرندے نے اپنا سر آپ علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃوالسلام کی انگلیوں سے لے لیا۔جب وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قدرت سے زندہ ہو گئے توحضرتِ سیِّدُنا ابراہیم علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام کے پاس رُک کر عرض کرنے لگے :''اے ابراہیم(علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃ والسلام)!آپ ہم سے کیا چاہتے تھے کہ آپ نے ہمیں ذبح کر دیا؟ یاد رکھيں! جو کچھ آپ نے ہمارے ساتھ کیا ہے ہو سکتا ہے آپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو۔ چنانچہ اسی رات آپ علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃوالسلام نے خواب میں اپنے بیٹے کو ذبح کرتے ہوئے دیکھا،گویا اللہ عزَّوَجَلَّ فرمارہا ہے: ''اے ابراہیم (علیہ والسلام)! ہم نے تجھے مردے زندہ کرکے دکھائے اب تم ہمیں زندوں کومارکر دکھاؤ۔''توآپ علیہ والسلام نے اپنے بیٹے حضرت سیِّدُنا اسماعیل علٰی نبینا وعلیہ الصلٰوۃوالسلام سے ارشاد فرمایا: